بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰن الرَّحِم
IN THE NAME OF ALLAH, THE MOST BENEFICIENT, THE MOST MERCIFUL

for english version of this website visit WWW.BAHAIAWARENESS.COM | feedback? write to faruqsm@gmail.com 

بَہائیتْ اور دھوکہ دینے کی تعلیماتْ

بارہا قارئین کرام کی نظروں سے ان مضامین میں یہ جملہ گزرے ہوں گے بہائی حضرات دھوکہ دیکر یہ کہتے ہیں کہ آپ مسلمان بھی رہےئے اور ہم تو دنیا میں امن ۔مساوات ۔ اتحاد وغیرہ کرنے کی غرض سے وجود میں آئے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ فسادی، جھوٹے ،انسانیت کے دشمن اور اسلام مخالف سازشیں ہیں۔ زیر نظر مضمون میں بہائیوں کے وہ گرانقدر حوالے قارئین کے سپرد کئے جارہے ہیں جس کے ذریعے یہ بات دن کے اجالے کی طرح آشکار ہوجائے گی کہ بہائیت اپنا اصل چہرہ اس وقت تک آشکار نہیں ہونے دیتی جب تک کوئی انکے جنجال میں نہ پھنس جائے اور اس عمل کو وہ جائز جانتے و پہچانتے ہیں قارئین اور خاص طور سے بہائی حضرات سے گذارش ہے کہ اس مضمون کا ایک حوالہ بھی اگر غلط ثابت کردیں تو نہ صرف منہ بولا انعام پائیں گے بلکہ مصنف ہذا مضمون ان کی دی گئی کسی بھی سزا کو قبول کرنے کا وعدہ کرتا ہے

 

۱- مرزا حیدر علی اصفہانی فرقے کے بہت بڑے سمجھے گئے ہیں حتیٰ کہ ان کی قبر عکّا جو بہائیوں کا مرکز ہے بہاء اللہ ہے انہوں نے ایک کتاب بنام بہجة الصدورفارسی مے۱۹۱۴ء عیسوی میں شہر ممبئی سے چھپوائی جس میں آپ کھلے الفاط میں صفحہ ۸۳ /پر رقمطراز ہیں کہ جب عبدالبہاء کی سفارش پر بہاء اللہ نے مجھے اپنے مذہب کی تبلیغ کے لئے استنبول کا مبلغ مقرر کیا تو سب سے پہلی ہدایت انہوں نے مجھے یہ دی بحکمت صحبت کن و مشرف شدن اور نہ ابرائے سیاحت و اطلاع ہر جائی اظہار دار استر ذھبک و ذھابک و مذھبک راھموارہ ملاحظہ نما ترجمہ۔۔ کہ تم لوگوں سے حکمت کے ساتھ ملاقات کرنا اور ادانہ میں ( جہاں انکی بہاء اللہ سے ملاقات ہوئی تھی) اپنا آنا ایک عام اطلاع حاصل کرنے والے سیاح کے طور پر لوگوں کے پاس بیان کرنا اوراس نصیحت کو ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھنا کہ اپنی دولت اپنا سفر اپنا مذہب کسی کے پاس ظاہر نہ کرنا اور حتیٰ الامکان ان تینوں چیزوں کو چھپائے رکھنا۔

 

ملاحظہ فرمایا آپ نے یہ کتاب عبدالبہاء یعنی عباس آفندی صاحب کے حکم پر لکھی گئی ہے۔ جناب حیدر علی اصفہانی صاحب نے اسی کتاب میں اپنے بہت سارے واقعات بھی نقل کئے ہیں جہاں انہوں نے اس ہدایت پر عمل کرکے لوگوں کو دھوکہ دیا۔

 

پہلا واقعہ:۔ فرماتے ہیں کہ جب مجھے مصر میں یہ تہمت لگائی گئی کہ ازدین اسلام خارج شدہ وہ دین و آئین جدیدی بدعت نمودہ است۔ ترجمہ۔۔ یہ شخص دین اسلام سے خارج ہوگیا ہے اور ایک نئے دین اور نئے مذہب کو اختیار کرلیا ہے تو میں نے ایک پولیس آفیسر کو یوں لکھ بھیجا قنصل بعد اوت نفسا نیتے کہ با خانیان داشت نسبت تجدید کتاب شرع جدید دادہ است ولدے التحقیق براولیاء امور کذب و افتراء و تہمتش چوں شمس فے رابعہ النھار آشکار و خوایداخواہد شدصفحہ ۱۰۷/ ترجمہ۔۔ کہ سرکاری کونسل نے خود غرضی اور عداوت سے جو اسکو ہم لوگوں کے ساتھ ہے ہم کو ایک نئے دین اور نئی کتاب کا پیرو بتایاہے۔ لیکن تحقیق کرنے پر حکام کو اس کونسل کا جھوٹ اور افترا اور تہمت لگانا ایسا واضح ہوجائیگا جیسے دوپہر کا سورج۔ لیکن پھر خود ہی صفحہ ۱۸۴/ پر فرماتے ہیں کہ از نسخ و تجدید شریعت ہم بہ برہانآگاہ شد۔ ترجمہ(ایک شخص کو جب تبلیغ کی گئی) تو اس پر اسلام کا منسوخ ہونا اور اس کی بجائے نئی شریعت کا آجانا دلائل کے ساتھ واضح کیا گیا ہے۔ قارئین ملاحظہ فرمائیں ان کا طریقہ تبلیغ کہیں بالکل انکار کردیں گے اور کہیں بالکل واضح کردیں گے۔

 

دوسرا واقعہ:۔اسی کتاب بہجہ الصدور کے صفحہ ۸۸۔۸۶/ پر جناب حیدر علی صاجب لکھتے ہیں کہ بعد اسکے کہ میں بہاء اللہ کی طرف سے بہائی مذہب کی تبلیغ کیلئے مقرر ہو چکے تھے بطور مبلغ کے جب میں مصر میں آیا اور ایرانیوں نے کہا کہ تم تو حضرت خاتم المرسلین کا دامن چھاڑ چکے ہو اور تم (بہائیوں کی) اسلام اور مسلمانوں سے خارج ہوگئے ہو بلکہ انکی تبلیغ کر کے نبی کریم کے آخری نبی ہونے کا انکار بھی کرتے ہو تو میں نے کہا برائے تبلیغ نیا مدہ ایم و خود را قابل اینکہ نسبت بمومنین این امربدہیم نمی دانیم تاچہ رسد بمبلغین ترجمہ۔۔ ہم بہائی مذہب کیلئے تبلیغ کرنے نہیں آئے ہیں مبلغ بننا تو بڑی بات ہے ہم تو اپنے آپ کو معمولی سے بہائی کے برابر بھی نہیں سمجھتے دیکھا آپنے صفحہ ۸۳ / پر خود ہی فرما چکے ہیں کہ عبدالبہاء کی سفارش پر مبلغ بن کر گئے تھے اور پھر یہ سفید جھوٹ کاش حیدر علی صاحب اسلام کی بنیادی اخلاق سے آگاہ ہوتے تو کبھی پیغمبر اسلام کے سامنے بہاء اللہ کو کھڑا کرتے کہاں نبی کریم کی وہ حدیث الکذب مفتاح الشر اور کہاں یہ شرعی طورپر جھوٹ بولنے کی تلقین۔

 

تیسرا واقعہ:۔ ایک دفعہ مرزا حیدر علی کو ایران کے حاکم شجاع الدولہ سے ملنا ہی پڑا کیونکہ بہائیوں سے شجاع الدولہآگاہ ہو گئے تھے۔ چنانچہ اس ملاقات کے دوران مرزا حیدر علی نے اپنے آپ کو سیّاح ظاہر کیا اور عکّا (جہاں بہاء اللہ کی قبر ہے) کی تعریف کرنا شروع کی گفتگو کو سن کر شجاع الدولہ نے کہا کہ جب تک کوئی بہائی مذہب کا نہ ہو بہائیت کے متعلق ایسی باتیں نہیں کرسکتا تم بہائی ہو اور مجھ سے پردہ کر رہے ہو۔ اس پر حیدر علی نے بہاء اللہ کی ہدایات کو طاق پرنہیں رکھا بلکہ فرماتے ہیں اگر فانی مومن وموقن است باید حضرتش رادر جمیع جہات اطاعت کنم (بہجة الصدور صفحہ ۱۹۶مطبوعہ بمبئی) ترجمہ۔۔ اگر میں بہائی فرقے سے ہوں اور میرا ایمان و یقین ہے تو مجھے حضرت (بہاء اللہ) کی تمام باتوں کی اطاعت کرنا چاہئیے۔ دیکھا آپ نے مطلب یہ ہے کہ پھر میرا جھوٹ بولنا عین شریعت بہائی کے موافق ہے۔ مرزا حیدر علی اصفہانی کا یہ جملہ باید حضرتش رادر جمیع جہات اطاعت کنم ہم مسلمانوں کو بھی جھنجھوڑ دیا ہے کہ ہم دونوں جہانوں کے سرکار صاحب حوض کوثر و تاجدار مدینہ حضرت سیّدنا محمّد اطاعت زندگی کے تمام امور میں کرتے ہیں یا نہیں ۔ باطک اپنے باطک لیڈروں کی گمراہ کن راستے پر چلنے کی اطاعت کو مثل مقناطیس قبول کررہاہے اور ہم نبی کریم کی سیرت پر چل کر انکی سیرت کو بچانے کی کوشش نہیں کرہے ہیں۔ باطل غلط ہونے کے باوجود جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے شجاع الدولہ حاکم کے سامنے کھڑے ہوکر دین بہائی کی تبلیغ کررہاہے اور ہم اپنے دشمن کو ایمان پر ڈاکہ ڈالتے دھک رہے ہیں لیکن ہماری غیرت یہ گوارو نہیں کرتی کہ اللہ ابکر کی تکبیر کو بلند کرکے اپنے اندر وہ عزم وقار پیدا جو دشمن کے سامنے کرتے وقت نبی کریم اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ میں ہوا کرتا تھا۔ گوکہ اس وقتاسلامی لشکر کی تعدادبہ نسبت مخالفین سے کم ہوا کرتی تھی اور آج اللہ کا شکر ہے ہماری تعداد بہائیوں کے سامنے بہت زیادہ ہے۔ لیکن اگر ہم نے انکے خلاف کوئی اقدام نہ کیا تو نہ صرف دنیا میں بلکہ آخرت میں بھی شرمندگی کا سامنا کرنا ہوگا۔

 

چوتھا واقعہ:۔ مرزاحیدر علی اسی کتاب کے صفحہ ۲۰۷۔۔۲۰۶ میں لکھتے ہیں کہ میں آقا غلام حسین اور آقا محمد صادق (یہ دونوں بھی بہائی تھے) ایران کے ایک مقام میں جمع تھے ۔ صبح کو دیکھا تو لوگوں نے ہمارے مکان کا محاصرہ کیا ہوا ہے۔ میں نے بہائیت کی موافقت کے تمام نو شتجات ان دونوں کے حوالے کیا اور باہر جاکر ہجوم میں شامل ہوگیا۔ انہوں نے مجھے شہر سے باہر لے جاکر ایک کوٹھری میں بند کر کے ڈرایا دھمکایا اور کہا کہ اگر بہائیت کے موافقت کے تمام نوشتجات اور آلات ہمارے حوالے کردیتے ہو توپھر ٹھک ہے ورنہ ہم تم کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالیں گے مرزا حیدر علی کہا کل آدھی رات کو شجاع الدولہ کے یہاں سے کوئی آدمی آیا تھا یہ نو شتجات اور آلات ہم نے اسکے سپرد کردیے ۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دونوں تو بھاگ ہی لئے تھے مجھے بھی چھوڑ دیا گیا۔

 

پانچواں واقعہ:۔ بہائی حضرات اپنی تبلیغ کے خاطر مسلمانوں کے ساتھ نمام پڑھ کر بھی اپنی طرف راغب کرتے ہیں حالانکہ بہائیوں کی نماز مسلمانوں کی نماز کے بالکل مختلف ہے نماز کیا وضو تک مختلف ہے ظاہر ہے بقولے بہاء اللہ کے وہ تو دین محمدی کو منسوخ کرنے آئے تھے۔ ملاحظہ فرمائے مرزا حیدرعلی کتاب بہجة الصدور کے صفحہ ۹۷/ پر لکھتے ہیں کہ فانی و مرزا حسین شیرازی ودرویش حسن سب میعاد بخانہ قنصل رفتیم ونزد اوو آخرین ہم در ظاہر آداب اسلام لاحفظ می نموذلم ولویاتی بکتاب جدیدوشرع جدیدراہمبدلائل آفاقیہ وانفسیہ ثابت میکرد ترجمہ۔۔ کہ ایک شب میں (مرزا حیدر علی ) او مرزا حسین شیرازی اور درویش حسن وعدہ کے مطابق قنصل کے مکان پر گئے اور اگرچہ میں نئی کتاب اور نئی شریعت کو (نئی کتاب اقدس اور نئی شریعت بہائیت) اندوورنی اور بیرونی دلائل سے ثابت کیا کرتا تھا کیونکہ اسلام تو منسوخ ہوقکا تھا پھر بھی ہم نے قنصل کے گھر پر نماز وغیرہ اسی طرح پڑھیں جس طرح مسلمان پڑھتے ہیں۔اور ایسا ہم دوسروں کے سامنے بھی کرتے تھے۔

 

چھٹا واقعہ:۔ تاریخ بہائیت کی شروعات دھوکہ دہی اور جاسوسیت سے ہوئی ہے۔ چنانچہ بہائی حضرات یہی نہیں کہ نمازیں پڑھ کر گمراہ کرتے ہیں بلکہ پیرو مرید بن کر بھی اپنی طرف راغب کرتے ہیں ۔ مرزا حیدر علی بہجة الصدور کے صفحہ۲۷/ پر اسطرح رقمطراز ہیں ازیزدبکاشان وطہران رفت ودرطہران بجہت سترو حفظ وامید واقبال اظہار ارادات بجناب استاد غلام رضای شیشہ گرمرشد مشہور مسلم نود ترجمہ:

 

ایران کے سفر میں میں مرزا حیدر علی یزد سے کاشان اور طہران اور طہران میں پہنچ کر میں ایک شخص استاد غلام رضا شیشہ گر کاجو مشہور مسلم پیر تھا ، مرید بن گیا اس مرید بننے میں میری ایک غرض یہ تھی کہ میرا بہائی ہونا لوگوں سے پوشیدہ اور مخفی رہے۔ دوسرے یہ کہ استاد غلام رضا بھی کسی طرح سے بہائی ہو جائیں۔

 

قارئین ملاحظہ فرمائیں بہائی حضرات کس طرح تبلیغ کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آج ان کا لیڈر ایسا ہی آدمی ہوتا ہے جسے اسلام کے بارے میں معلمات حاصل ہوں۔ لیکن ہمیں بہائیوں کے ان طریقوں کو علماء اور عوام الناس مخصوصاً مسلمانوں کے سامنے رکھنا ہوگا۔ ورنہ ہم ان کے شکنجوں میں پھنستے چلے جائیں گیاور ہمارا انجام دین محمدی کے خلاف ہوگا سا واقعہ سے ایک بات اوریہ ظاہرہے کہ ان کے مخلصانہ رویہ کے شکنجے میں علماء کرام بھی پھنس جاتے ہیں ۔ لہٰذا ہمیں ان کی اندرونی معلومات بھی رکھنا ضروری ہے۔ اس قسم کے بہت سارے واقعات اس کتاب میں موجود ہیں۔ قارئین ملاحظہ فرمائیں اس سے بھی خطرناکواقعہ بہیجة الصدور کے صفحہ ۵۰/ پر نقل ہے۔

 

ساتواں واقعہ:۔ حضرت ملا علی اکبر ازتلامیذ حضرت اسم اللہ الاصدق ملا محمد صادق مقدس بوند ودرشیراز حضرت اصدق امام جماعت بودندودر منبر بطلوع وظہور حضرت اعلیٰ بشارت می دادند ترجمہ۔۔ کہ ملا علی اکبر حضرت ملا محمد صادق کے شاگرد میں سے تھے ۔ جو شیرازمیں امام جماعت تھے اور منبر سے (مرزا علی محمد باب) حضرت اعلیٰ کے ( مہدی ہونے کی) بشارت دیا کرتے تھے۔ قارئین لیجئے اس سے زیادہ خطرے کی اور کوئی بات ہو سکتی ہے کہ مسلمانوں کی مسجدوں کے منبروں سے چھپ چھپایران میں کر بہائیت کی تبلیغ ہوا کرتی تھی اور اسکا اثر یہ تھا کہ ملاحظہ فرمائیے عبدالبہاء نے الکوکب الدریہ کے صفحہ۴۵۲/ پر لکھا ہے کہ پیوستہ ایں طائفہ درہرد ستگاہ راہ داشنند وازکار ہر کسی آگاہ بودہ چندان کہ ازحرم سرائے سلطانی ہر راز نہائی بتوسط بہائیان کہہ در پردہ این مستورودائرمدار امور بودند برائے ایشان مکشوف میگشت ترجمہ:

 

کہ اس وجہ سے (جھوٹ کی ایران کے بہائیوں نے ہر صیغہ میں اپنا راستہ بنایا ہوا تھا۔ اور ہر شخص کے حالات سے انکو اطلاع تھی ۔یہاں تک کہ بادشاہ کی بیگمات کے تمام خفیہ راز بھی ان چھپے ہوئے بہائیوں کے ذریعے جو محلات شاہی کے کاموں کے سپر دار تھے اس فرقے کو معلوم ہوتے تھے ۔

 

یہی نہیں قارئین بہائیت میں مذہب کو چھپا کر تبلیغ کرنے کا یہاں تک حکم ہے کہ عباس آفندی ملقب بہ عبدالبہاء نے اپنی مکاتیب جلد ۳/صفحہ ۳۲۷/ پر حکم دیا ہے کہ اپنے مذہب کو چھپانا تم پر لازم ہے۔ اس کے علاوہ صاحب نقطہ ۔الکاف مرزا جانی اپنی کتاب کے صفحہ ۲۱۱/پر لکھتے ہیں کہ باپ اپنے بیٹے اور بیٹا اپنے باپ اور اپنے گھر والوں سے اپنا مذہب چھپاتا ایک جگہ تو عبدالبہاء نے شیخ فرج اللہ ذکی کو جو مصر میں تبلیغ بہائیت کیلئے گئے تھے عبدالبہاء نے ۲۲/اکتوبر ۱۹۲۱ ء کو انکو خط لکھا جو مکاتیب ج ۳/ صفحہ ۳۲۷/پر نقل کیا گیا ہے۔ جمال مبارک تبلیغ رادرایں دیار حرام فرمودہ اند مقصود ایں است کہ ایامی چند بکلی سکوت نمائندہ اگر کسی سوال نماید بکلی اظہار بے خبری کنندکہ ہمہمہ ودمدمہ قدرے ساکن شود ترجمہ:

 

کہ بہااللہ نے مصر میں بہائیت کی تبلیع کص حرام قرار دیا ہے۔ بہائی دوستوں کو چاہئے کہ کچھ عرصے اور خاموش رہیں۔ اور اگر کوئی شخص بہائی مذہب کے بارے میں سوال کرے تو بے خبری ظاہر کریں تاکہ سب لوگ بالکل خاموش ہو جاہیں۔

 

بہائیت کے اخفا کاحکم کھلے الفاظ میں عبدالبہاء مکاتب کے جلد۳/ صفحہ ۴۹۶/ پر شیخ محی الدین کردی کو بھی دیتے ہیں کہ مسائل حکمیہ رااساس تذکرہ قراردہید نہ عقائدرا ترجمہ۔۔ یعنی تبادلہ خیال کرتے وقت ۔

دوسرے علوم وفنون کو ترجیح دو نہ کہ عقائد۔

 

جی ہاں عقائد کو ترجیح دوتو کوئی مسلمان کیسے تمہارے چکر میں پھنس جائے گا۔ اگر شروع میں ہی بہاء اللہ کو دوسرا نبی کہدوگے یا خدا بنا بیٹھوگے تو کوئی تمہاری طرف نہیں کھینچ سکتا۔اسلئے مسلمانوں کو آسانی سے دھوکا اسی وقت دیا جاستک ہے جب ان کے ساتھ نمازپڑھو۔ان کے علماء کی ہم نشینی اختیار کرو۔ ان کے دل جیتو اور پھر دھیرے دھیرے تحفہ و تحائف پہنچاوٴ غرضیکہ کوئی دوسرا طریقہ اختیار کرو لیکن اپنے مذہب کو چھپائے رکھو۔ دوسرے کے راز معلوم کرو اور اپنی حقیقت نہ بتاوٴ۔

 

قارئین اور مخصوصاً علماء کرام ہم سب کو سنجیدگی سے ان پوشیدہ دشمنان اسلام سے مقابلہ کرنے کیلئے ایک مستحکم تحریک چلانی ہوگی جس سے ہم کو یہ بھی معلوم ہوتا رہے کہ ان کی سازشیں کیا کیا ہیں۔ آج کل شادی کی تحریک چلا رکھی ہے لڑکا و لڑکی میں محبت کی بنیاد پر شادی کراتے ہیں اور پھر اس خاندان اور قبیلے میں تبلیغدین کرتے ہیں ۔انکے عقائد کو حاصل کرکے انکی دھجیاں اڑانی ہوگی انکے حربوں سے منبروں،اخباروں ،رسالوں،تقریروں سے مسلمان کو آگاہ کرنا ہوگا ۔

        نبوت کا دعوےٰ کرنے والے بہا ء اللّہ اور انکی قوم بہائیوں کا مختصر تعارف

        تاریخ بہائیت پر ایک محققانہ نظر

        بہاء ا للّہ ہی نبی تھے یا ۔۔۔۔۔؟ اور بہاء ا للّہ خدا تھے؟

        کیا بہاء ا للّہ واقعاً من یظھرہ ا للّہ ۔ ۔ ۔ ۔ ہیں ؟

        بہائیت کا علمی محاسبہ

        بہائیتْ اور اُسکے خود ساختہ احکام کا تحقیقی تجزیہ

        بہائی تعلیمات ۔ایک فریب

        بَہائیتْ اور دھوکہ دینے کی تعلیماتْ



blog comments powered by Disqus
HOME | BACK
©TheBahaiTimes.com