بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰن الرَّحِم
IN THE NAME OF ALLAH, THE MOST BENEFICIENT, THE MOST MERCIFUL

for english version of this website visit WWW.BAHAIAWARENESS.COM | feedback? write to faruqsm@gmail.com 

اقرار کی اہمیت انکار کے بعد

یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ اجالے کی اہمیت اس وقت تک ثابت نہیں ہوتی جب تک اندھیرے کا انکشاف نہ ہوجائے ۔ بلکہ تصویر اسی وقت صاف ستھری آتی ہے جب اس کا پسے منظر گہرا ہو اسی ضابطے کا خیال رکھتے ہوئے تخت سیاہ کو سیاہ بنا یا گیا ۔ تاکہ جو حروف اس پر لکھے جائیں وہ صاف اُبھر کر پڑھنے والوں کی آنکھوں کو کھول دیں حالانکہ ترقی یافتہ دور نے سفید تخت بناکر اس پر لکھنے کی کوشش کی ہے لیکن تجربہ یہ بتاتا ہے کہ چیزیں جتنا واضح او ر صاف و شفاف طریقے سے تخت سیاہ پر لکھی جاسکتی ہیں اتنی تخت سفید پر نہیں یہی نہیں بلکہ اگر کسی لفظ کے معنی میں شک و شبہ کیا جارہا ہو تو اس کو واضح طور پر مخاطب کی وضاحت کی خاطر صرف اور صرف ضد کے ذریعے سمجھا یا جا سکتا ہے مثلا اگر کوئی اردو داں صرف مد کہے تو شاید مخاطب کے لئے بات واضح نہ ہو لیکن جہاں وضاحت کے لئے مد و جزر کہہ دیا گیا وہا ں مخاطب سمجھ جائے گا کہ مد چڑھا وٴ کے لئے استعمال ہوا ہے ۔ فطرت انسانی بھی خاص اسی کے مطابق ہے اسی لئے تو فلمیں بنانے والوں نے جہاں Heroکا کردار رکھا ہے وہیں ویلن کا کردار بھی رکھا ہے اور جتنا اچھا ویلن کا کردار ہوتا ہے اتنی ہی فلم اچھی سمجھی جاتی ہے

 

خالق ِ کائنات نے بھی اس کا خیال رکھا ہے چنانچہ سورہ آل عمران کی آیت نمبر ۱۹۰ میں ارشاد رب العزت ہورہا ہے

اِنَّ فِیْ خَلَقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الّلَیْلِ وَ النَّہَارِ لاَٰیَاتِ الِّاُ وْلِی الْاَلْبَابِ ۔

ترجمہ: زمین و آسمان کی خلقت اور دن رات کے اختلاف میں صاحبان غور و فکر کے لئے نشانیاں موجود ہیں ۔

 

یہی نہیں بلکہ اگر آپ قرآن کریم کی آیتوں کا مطالعہ کریں تو بہت سی ایسی آیتیں ملیں گی جہاں رات و دن کا تذکرہ ایک ساتھ ہوا ہے اور زیادہ تر آیتوں میں پہلے رات کا لفظ لیل آیا ہے اور پھر نہار دن ۔ گویا خالق کائنات اندھیرے کا ذکر پہلے کرکے بتارہا ہے ۔ کہ مضبوط عمارت کی تعمیر کے لئے کمزور وباطل عمارت کا ڈھانا ضروری ہے اور یہ رویہ خاص طور سے کافروں کا سامنا کرتے وقت خاص وزن کا خیال رکھتے ہوئے اپنایا گیا ہے لہذا سورہ قُلْ یَا اَیُّہَا الْکٰفِرُوْنَ پہلے کہا گیا ہے لاَ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ میں وہ عبادت نہیں کرتا جو تم سب عبادت کرتے ہو وَلَااَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَا اَعْبَدْ تم سب وہ عبادت نہیں کرتے ہو جو میں عبادت کرتا ہوں او ریہی سنت رَبُّ الْعِزَّتْ نے اپنے اقرار اور اپنے نبی کے اقرار کے لئے اپنایا ہے لہذا دنیا بھر کے مسلمان کلمہ پڑھتے وقت کہتے ہیں لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ نہیں ہے کوئی خدا سوائے پر ور دگار کے او رہم سب جانتے ہیں کہ اگر صرف کہیں اِلَّا اللّٰہُ تو نہ صحیح طریقے سے اللہ جل جلالہ کی وحدانیت کا اقرار ہو پائے گا اورنہ اس کی عظمت کی گواہی دی جا سکے گی ۔ یا دوسرے الفاظ میں یہ کہا جائے کہ جو حقیقی پر ور دگار کا اقرار تو اِلَّا اللّٰہُ کہہ کر کرے لیکن باطل معبو دوں کا انکار لَا اِلٰہَ کہہ کر نہ کرے وہ مسلمان نہیں قرار پائے گا یا تو اسے کافر ہی کہا جائے گا یا پھر منافق قرار دیا جائے گا اور اللہ رب العزت سارے گناہوں کی مغفرت کا تو وعدہ کرتا ہے لیکن شرک کو ظلم عظیم جانتے ہوئے معافی کے قابل نہیں سمجھتا ۔ بالکل اسی طرح خالق کائنات نے اپنے حبیب کا بھی تعارف کرایا ہے ۔ کہیں کہتا ہے

مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النّبِیِّنَ

سورہ احزاب نمبر ۴۱

ترجمہ: اور محمد تم میں سے کسی کے باپ نہیں بلکہ وہ اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں

 

اسی آیت میں تین انکار کے ساتھ رسول اللہ کی نبوت کا اقرار کیا گیا ہے ۔

      محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم میں سے کسی کے باپ نہیں۔

      خاتم النبین یعنی ان کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ۔

      او رجب کوئی نبی نہ ہوگا تو پھر کوئی رسول نہ ہوگا ۔

 

معلوم یہ ہوا کہ صرف محمد کا اقرار کافی نہیں بلکہ ان کا آخری نبی ہونا اس بات کا انکار کررہا ہے کہ ان کے بعد اب کوئی نبی نہیں آنے والا لہذا مدعی نبوت کا انکار ہی اقرار نبوت حضرت محمد کا صحیح طریقہ ہے ۔ تاریخ شاہد ہے ۔ جناب مسیلمہ کذاب سے لے کر آج تک لوگوں نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے ۔ او ران سب کا انکار ہماری اور آپ کی شرعی ذمہ داری ہے بلکہ ایمان کا ایک جزء ہے ۔ ایسی ہی ایک شخصیت بانی مذہب باب و بہاء مرزا حسین علی نوری ملقب بہ بہاء اللہ نے کیا تھا ۔ جس کی تفصیلات آئندہ مضامین میں واضح کی جائے گی ۔

 

نتیجہ :

نبی کریم کی نبوت کا صحیح اقرار مدعیان نبوت کے انکار سے ہوسکتا ہے ۔


        ختم نبوت : مقدمہ

        ختم نبوت -خَتَمَ کے معنی لغت کی رو سے

        ختم نبوت -خاتم : قرآن کے نقطہٴ نظر سے

        ختم نبوت -خاتمیت حضرت محمد مصطفی کے متعلق علماء اہل سنت کے مصادر سے لی گئیں احادیث

        ختم نبوت -صحابہ کرام کا اجتماع

        ختم نبوت -اجماع علماء اہلسنت



blog comments powered by Disqus
HOME | BACK
©TheBahaiTimes.com