بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰن الرَّحِم
IN THE NAME OF ALLAH, THE MOST BENEFICIENT, THE MOST MERCIFUL

for english version of this website visit WWW.BAHAIAWARENESS.COM | feedback? write to faruqsm@gmail.com 

ختم نبوت -اجماع علماء اہلسنت

اس ختم نبوت کی بحث میں اب اصحاب کے بعد صرف وہ علماء رہ جاتے ہیں جنھوں نے اصحاب، تابعین، تبع تابعین سے حدیثیں اخذ کرکے اپنی اپنی کتابوں میں جمع کیں ۔ تاریخ اسلام پر پہلی صدی ہجری سے لے کر عصر جدید تک ، ایک گہر ی نظر ڈالنے سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہر وقت کے علماء خواہ وہ دنیا کے کسی بھی مسلم ملک سے تعلق رکھتے ہوں ، اس ختم نبوت حضرت محمد کے متعلق متفق ہیں ۔ ان سب کی متفقہ رائے ہے کہ حضرت محمد مصطفی کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا او راگر کسی نے دعویٰ نبوت کیا بھی تو وہ جھوٹا ہوگا ، ہو اس کے ماننے والے دونوں مرتداور کافر قرار دئے جائیں گے ان کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھا جائے گا ۔ اس سلسلہ میں یہ عرض کردیناضر وری ہے کہ بہائی اور قادیانی حضرات اپنی کتابوں میں بڑی آزادی سے لکھتے ہیں ۔ فلا ں محدث یا تاریخ داں نے کہا ۔ کہاں کہا ؟ یا لکھا ۔ کتاب کا نام ۔ جلد ، صفحہ وغیرہ کچھ نہیں ہوگا ۔ اور اس طرح صرف لفاظی کے بل بوتے پر وہ مسلمانوں کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں ۔ ہم نے یہاں ہر صدی کے علماء ان کی کتابیں ۔ جلد اور صفحہ نمبر بھی نقل کردیا ہے ۔

 

اب ہم پہلی صدی ہجری سے لے کر عصر جدید تک ، ہر صدی کے مشہور و معروف، معتبرو مو ثق علماء میں سے کچھ کے خیالات سلسلے وار پیش کرتے ہیں ۔ تاکہ اس سے اندازہ ہوجائے کہ بعثت رسو ل سے لے کر آج تک ہر زمانے میں نبی کریم آخری نبی اور رسول ہی مانا گیا ہے ۔

 

امام اعظم ابو حنیفہ ( ۸۰ ہجری تا ۱۵۰ ہجری) کے زمانے میں ایک شخص نے دعویٰ نبوت کر دیا اور کہا کہ میں اس کا ثبوت بھی دے سکتا ہوں ۔ امام اعظم نے لوگوں کو سمجھایا : جو بھی اس سے ثبوت یا معجزہ طلب کرے گا وہ مرتد ہوجائے گا کیونکہ آنحضرت نے واضح طور پر فرمادیا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا ۔

امام اعظم ابو حنیفہ ۔ ابن احمد المکی ۔ جلد ۱۔ص ۱۶۱ مطبع حیدر آباد ۔ ہندوستان ۔ ۱۳۲۱ ہجری

 

امام اعظم کے اس رویہ سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ ایسے مدعیان نبوت سے نزدیکی بھی نہیں اختیار کرنا چاہئے ۔ لہذا بہاہیوں کے کسی جشن یا بیھٹک میں شرکت کرنا بھی صحیح نہیں ہے ۔ علامہ ابن جریر طبری ( ۲۲۴ ہجری تا ۲۱۰ ہجری ) اپنی مشہور و معروف تفسیر میں اس آیت لکن رسول اللہ و خاتم النبیین کے ذیل فرماتے ہیں : (آنحضرت) نے نبوت کو ختم کردیا اور اس پر مہر لگا دی ۔ اب دروازہٴ نبوت قیامت تک کسی کے لئے نہیں کھلے گا ۔

تفسیر طبری ج ۲۲ ۔ ص ۱۲

 

امام طحاوی ( ۲۳۹ ہجری ۔ ۳۲۱ ہجری ) اپنی کتاب عقیدہ سلفیہ میں امام ابو حنیفہ اور امام یوسف او رامام محمد جیسے قدیم بزرگوں کے عقائد کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ محمد مصطفی خدا کے بہت ہی محترم و مقدس بندے ہیں ۔متقین کے امام ، اللہ کے رسولوں کے سردار ، اور اللہ کے محبوب ترین بندے ہیں ۔ ان کے بعد ہر دعویٰ نبوت ایک کھلی گمراہی ہے اور خود پرستی قرار پائے گا ۔

شرح طحاویہ فی عقیدة السلفیہ ۔ دار المعارف مصر ص ۔ ۱۰۲۱۵

 

علامہ ابن حزم اندلسی ( ۳۸۴ ہجری ۔ ۴۵۶ ہجری) لکھتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت محمد کے بعد سلسلہ نزول وحی تمام ہوگیا ۔ کیونکہ وحی کا نزول صرف انبیاء پر ہوا کرتا تھا جب کہ خداوند تعالیٰ نے صاف اعلان کردیا ہے کہ محمد تمہارے درمیان کسی کے باپ نہیں مگر خدا کے رسول اور خاتم النبین ہیں ۔) لہذا اب نہ کوئی نبی ہوگا اور نہ رسول ہی )

المحلہ ۔ جلد ۱۔ ص ۲۶

 

امام غزالی ( ۴۵۰ ہجری ۔ ۵۰۵ ہجری ) فرماتے ہیں : اگر اجماع سے رد گردانی کے حق کو تسلیم کر لیاجائے تو اس سے کافی فضولیات کے لئے دروازہ کھل جائے گا ۔ مثلا اگر کوئی یہ کہے کہ آنحضرت کے بعد بھی کسی کے لئے نبوت کا حصول ممکن ہے تو ہمیں اسے کافر کہنے میں ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہئے ۔ بلکہ اس کے بر خلاف اگر کوئی اسے کافر کہنے میں ہچکچائے یا ایسا کہنا اس کے مطابق گناہ ہو تو اسے اپنا موقف ثابت کرنا ہوگا ۔ کیونکہ ختم نبوت ایک مسلمہ عقیدہ ۔ منکر ختم نبو ت ان واضح اور آشکار حق جملوں کی کیا تاویل کریں گے ۔ لا نبی بعدی میرے بعد کوئی نبی نہیں یا خاتم النبیین نبیوں میں سے آخری ۔

 

بہت غور وفکر کے بعد یہ حضرات کہتے ہیں کہ نبوت کا دروازہ بند ہوگیا مگر باب رسالت کھلا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں کوئی نبی نہیں آئے گا مگر رسول آسکتا ہے ۔ اب ان سے کون کہے کہ نبی کے لئے رسول ہونا ضر وری نہیں مگر رسول کے لئے نبی ہونا نا گزیر ہے ۔ لہذا نبوت وہ بنیا د ہے جس پر رسالت کی عمارت تعمیر ہوتی ہے ۔ جب بنیاد ہی نہ ہوگی توعمارت کہاں خلاء میں بنے گی ساری امت کا اس پر اجماع ہے کہ آنحضرت کے اس قول پر میرے بعدکوئی نبی نہیں آئے گا ساری امت کا اس بات پر اجتماع ہے اس قول رسول کہ اس کے علاوہ کوئی او رمعنی نہیں ہوسکتے ۔

الاقتصاد فی الا عتقاد ص ۱۱۴ ۔ مصر

 

محی السنہ علامہ بغوی ( متوفی ۵۱۰ ہجری ) اپنی تفسیر معالم التنزیل ، میں لکھتے ہیں : اللہ نے آنحضرت پر سلسلہ نبوت کو ختم کردیا ۔ لہذا آپ آخری نبی ہیں ۔ ابن عباس اقرار کرتے ہیں کہ اللہ نے اس آیت میں اعلان کردیا ہے کہ حضرت محمد کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا ۔

جلد ۳ ۔ ص ۱۵۸

 

علامہ زمخشری ( ۴۶۷ ہجری ۔ ۵۳۸ ہجری ) اپنی مشہور تفسیر، کشاف میں فرماتے ہیں : اگر کوئی پوچھے کہ کیسے آنحضرت آخری نبی ہوں گے جب کہ عیسی دنیا کے خاتمہ سے پہلے آخری دور میں ظاہر ہوں گے ؟ اس کے جواب میں ہم کہیں گے کہ ختم نبوت آنحضرت کا مطلب ہے کہ آپ کے بعد کسی کو بھی نبوت عطا نہیں کی جائے گی ۔ حضرت عیسیٰ کو تو آنحضرت سے پہلے نبوت عطا کی گئی تھی ۔ اس کے علاوہ حضرت عیسیٰ کو تو آنحضرت کے پیرو کی حیثیت سے ظاہر ہوں گے ، اور وہ اسلام کے قبلے کی طرف منھ کرکے نماز پڑھیں گے جیسا کہ ہر مسلمان پڑھتا ہے ۔

جلد ۲ ۔ ص ۲۱۵

 

قاضی عیاض ( متوفی ۵۴۴ ہجری ) لکھتے ہیں: جو کوئی دعویٰ نبوت کرتا ہے وہ ان فلاسفہ اور صوفیاء کے نظریے کی تائید کرتا ہے جو کہتے ہیں کہ تزکیہ نفس کے ذریعہ حصول نبوت ممکن ہے ۔ اس طرح ہر وہ شخص جو دعویٰ نبو ت نہیں کرتا مگر دعویٰ کرتا ہے کہ اس پر وحی ناز ل ہوتی ہے ، ایسے تمام افراد مرتد و کافر اور منکر ان ختم نبوت حضرت محمد مصطفی ہیں ۔ کیونکہ آنحضرت نے صاف اور واضح لفظوں میں اللہ کا یہ پیغام لوگوں تک پہنچایا ہے کہ آپ خاتم النیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا انھوں نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ سلسلہٴ نبوت آپ کی ذات پر تمام ہوگیا اور اس پر مہر اختتام لگادی گئی ہے اور آپ کوتمام کائنات کے لئے نبی اور ر سول بناکر مبعوث کیا گیا تمام امت کا اس پر اجماع کہ آنحضرت کے ان صاف، واضح ، آشکار حق الفاظ سے سوائے ختم نبوت حضرت محمد کے اور کوئی معنی نہیں نکلتے ہیں لہذا ان کی کوئی اور تاویل ممکن و مناسب نہیں ۔ ان معتبر ترین واضح نصوص کی موجودگی میں جب کہ اس پر امت کا اجماع بھی ہوچکا ہے ، اس میں کوئی شک نہیں کہ ان منکر ان ختم سے آنحضرت کی مراد یہ تھی کہ میرے بعد نہ کوئی نبی آئے اور نہ کوئی رسول آئے گا ۔ نبوت حضرت محمد مصطفی کے فرقے وجود میں آئے ہیں اور تمام دائرہ اسلام سے خارج ہیں ۔

الشفاء جلد ۲ ص ۲۷۰ ۔ ۲۷۱

 

علامہ شہرستانی ( مدنی ۵۴۸ ہجری ) اپنی معرکة الآراء تصنیف ، الملل و النحل میں رقم طراز ہیں : اور اس طرح وہ شخص جو یہ کہے کہ آنحضرت محمد مصطفی کے بعد کوئی اور آسکتا ہے ، اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ایسا شخص کافر ہے ۔

جلد ۳۔ ص ۲۴۹

 

اما م رازی ( ۵۴۳ ہجری ۔ ۶۰۶ ہجری ) اپنی مشہور تفسیر کبیر میں خاتم النبیین کی شرح میں فرماتے ہیں : اگر کوئی ایسا نبی ہو جو آخری نہ ہو تو اسکے لئے ممکن ہے کہ وہ کچھ احکام یا کار نبوت کچھ ذمہ داریوں کو ادھورا چھوڑ دے تاکہ آنے والا نبی ان معاملات کو مکمل کرے ۔ لیکن وہ نبی جو آخری ہو اور اسے پتہ ہو کہ اب کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو وہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے گا او راپنی قوم کو مکمل اور واضح ہدایت عطا کرے گا کیونکہ وہ ایک ایسے مہربان باپ کی طرح ہوتا ہے کہ جسے معلوم ہے کہ اس کے بعد اس کے بیٹوں کی دیھک بھال کرنے والا کوئی نہیں ہوگا ۔

جلد ۶ ۔ ۵۸۱

علامہ بیضاوی ( متوفی ۶۸۵ ہجری ) اپنی تفسیر انوار التنزیل میں فرماتے ہیں دوسرے لفظوں میں حضرت محمد مصطفی آخری نبی ہیں آپ کی ذات پر سلسلہ نبوت تمام ہوا اور اس پر مہر اختتام لگادی گئی ۔ حضرت عیسیٰ کے آخری زمانے میں ظاہر ہونے سے حضرت محمد مصطفی کی ختم نبوت پر حرف نہیں آتا کیونکہ حضرت عیسیٰ آنحضرت کی شریعت کے پیرو کی حیثیت سے ظاہر ہوں گے ۔

جلد ۴۔ ص ۱۶۴

 

علامہ حفیظ الدین النسفی ( متوفی ۷۱۰ ہجری ) اپنی تفسیر مدارک التنزیل میں لکھتے ہیں : اور محمد مصطفی کی ذات وہ اعلی صفات ہے کہ اس پر سلسلہ نبوت تمام ہوا۔ دوسرے لفظوں میں وہ آخری نبی ہیں ۔ خداوند تعالیٰ آپ کے بعد کسی کو بھی نبوت عطا نہیں کریگا ۔ حضرت عیسیٰ کو تو نبوت پہلے عطا ہوئی تھی اور جب وہ ظاہر بھی ہوں گے تو شریعت محمد کے پیرو او رمومنین میں سے ایک ہوں گے ۔

ص ۴۷۱

 

علامہ علاوٴ الدین بغدادی ( متوفی ۷۲۵ہجری ) اپنی تفسیر خازن میں فرماتے ہیں خاتم النبیین یعنی خدانے ان پر نبو ت کو ختم کردیا ۔ محمد کے بعد کوئی نبی نہیں نہ ہی کوئی ان کی نبوت عظمیٰ میں شریک ہے ۔ وکان اللہ بکل شیء ٍ علیما ۔ اللہ جانتا ہے کہ آنحضرت کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا ۔

ص ۴۷۱۔ ۴۷۲

 

علامہ ابن کثیر ( متوفی ۷۷۴ ہجری ) اپنی مشہور تفسیر میں فرماتے ہیں : لہذا اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ آنحضرت کے بعد کوئی نبی نہیں او رجب یہ کہا جائے کہ کوئی نبی نہیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ اور کوئی رسول بھی نہیں کیونکہ رسالت کا عہدہ نبوت سے بالا ہے ۔ ہر رسول نبی ہوتا ہے مگر ہر نبی رسول نہیں ہوا کرتا ۔ جو کوئی حضرت محمد کے بعد دعویٴ نبوت کرے وہ چھوٹا ، مرتد اور بے دین ہوگا او رجو کوئی قیامت تک ایسا کرے وہ ان لوگوں میں شامل ہوگا۔

جلد ۳۔ ۴۹۳۔ ۴۹۴

 

علامہ جلا ل الدین سیوطی ( متوفی ۹۹۱ ہجری ) اپنی تفسیر جلالین میں فرماتے ہیں : خدا اس بات سے آگاہ کہ اب کوئی نبی حضرت محمد کے بعد نہ ہوگا ، او رجب حضرت عیسیٰ ظاہر ہوں گے تو شریعت محمد ی کی پیر وی کریں گے ۔

ص ۷۶۸

 

علامہ ابن بخیم ( متوفی ۹۷۰ ہجری ) اپنی کتاب جو کہ فقہ کی عظیم تصانیف میں سے ایک ہے ، فرماتے ہیں : جو شخص حضرت محمد مصطفی کو آخری نبی نہ مانے وہ مسلمان نہیں ۔ کیونکہ آنحضرت کی ختم نبوت اسلام کے ایسے بنیادی عقائد و اصول میں سے ہیں جس پر اعتقاد رکھنا ہر مسلمان پر ضر وری ہے

الاشاح والنظائر ۔ کتاب التفسیر ۔ باب الردة ۔ ص ۱۷۹

 

ملا علی قاری ( متوفی ۱۰۱۶ ہجری ) اپنی تفسیر ، فقہ اکبر میں لکتھے ہیں : اجماع امت سے یہ بات ثابت ہے کہ آنحضرت کے بعد دعویٰ نبوت کرنا اور اس پر یقین رکھنا صریح کفر کے مترادف ہے ۔

ص ۲۰۲

 

شیخ اسماعیل حقی ( متوفی ۱۱۳۷ ہجری ) اپنی تفسیر روح البیان میں اس آیت کی شرح میں لکھتے ہیں : عاصم ، خاتم کو ت پر زبر کے ساتھ پڑھتے تھے جس کا مطلب ہوا مہر یا نشان لگانے کا آلہ پر نٹر مشین کی طرح جو پرنٹ کرتی ۔ اس کامطلب ہوا کہ حضرت آخری نبی ہیں اور خدا نے آپ پر نبوت کو تمام کردیا اور مہر اختتام لگا دی۔ فارسی میں اسے مہر پیغمبر ان کہا جائے گا ۔ جس کے معنی ہوں گے نبیو ں کی مہر یعنی نبوت کا سلسلہ حضرت محمد پر تمام ہوا اور اس پر مہر اختتام لگا دی گئی ۔ کچھ دوسرے قاریان خاتم پڑھتے ہیں ت کے نیچے زیر دے کر جس کے معنی ہوئے محمد وہ ہیں جنھوں نے دروازہ نبوت کو مقفل کردیا اور اس پر مہر اختتام لگاد ی۔ فارسی میں اسے مہر کنندہٴ پیغمبران کہا جائے گا ۔ نبیوں پر اختتام لگانے والا لہذا دونوں طریقوں سے لفظ خاتم ایک ہی معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔ حضرت محمد مصطفی نے سلسلہ ٴ نبوت کو ختم کردیا اور اس پر ہر زمانے کے لئے مہر اختتام لگادی ۔ حضرت عیسی کا آخری زمانے میں ظہور ، خاتمیت حضرت محمد کے منافی نہیں ۔خاتم النبیین سے صاف ظاہر ہے کہ اب کسی اور کو منصب نبوت عطا نہیں کیا جائے گا حضرت عیسی کو نبوت کافی پہلے عطا ہوئی تھی ۔ اس کے علاوہ جب وہ ظاہر ہوں گے تو شریعت محمدی کی پیروی کریں گے ، وہ قبلے کی طرف منھ کرکے نماز پڑھیں ، حضرت عیسی کے مومنوں میں سے ہوں گے وہ نہ ہی وحی موصول کریں گے اور نہ ہی کوئی نئے احکام صادر کریں گے بلکہ وہ آنحضرت کے پیرو کی حیثیت سے ہوں گے ۔ اہل سنت و الجماعت کا عقیدہ ہے کہ حضرت محمد مصطفی کے بعد کوئی اور نبی نہیں آئے گا ، کیونکہ خدانے صاف اعلان کردیا ہے کہ ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین ، اور آنحضرت نے صاف تصریح کردی ہے کہ لا نبی بعد ی یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا ۔ لہذا اب اگر کوئی یہ کہے کہ آنحضرت کے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا تو وہ مرتد کیونکہ اس نے دین کے بنیادی اصول سے انکار کیا ہے ۔ اس طرح وہ شخص بھی کافر قرار دیا جائے گا جو آنحضرت کی خاتمیت نبو ت کے متعلق کسی قسم کا شک و شبہ رکھتا ہو جیسا کہ ہمارے مذکورہ بالا بیان سے حق وباطل صاف آشکار ہوگئے لہذا حضرت محمد مصطفی کے بعد ہر دعوی نبوت جھوٹا اور بے بنیاد ہو گا ۔

 

بارہویں صدی ہجری میں ، اورنگ زیب کے زمانے میں اس کے حکم سے ہندوستان کے جید علماء نے ایک کتاب مرتب کی تھی جو کہ فتاویٰ عالمگیری کے نام سے مشہور ہوئی ، اس میں درج ہے کہ : جو شخص حضرت محمد مصطفی کی آخری نبی نہ مانے ، وہ مسلمان نہیں اور شخص دعویٰ نبوت ورسالت کرے تو وہ مرتد قرار دیا جائے گا ۔

جلد ۲۔ ۲۶۳

 

علامہ شوکانی ( متوفی ۱۲۵۵ ہجری ) اپنی تفسیر فتح القدیر میں فرماتے ہیں : اکثر قاریان نے خاتم کوتِ کے نیچے زیر کے ساتھ پڑھا ہے مگر عاصم اسے زبر کے ساتھ پڑھتے ہیں پہلی قرأء ت کے مطابق معنی ہوں گے کہ محمد کے سلسلہ ٴ نبوت ختم کردیا دوسرے لفظوں میں آپ آخری نبی ہیں ۔ دوسری قرأت کے مطابق معنی ہوں گے کہ آنحضرت وہ مہر ہیں جو دفتر رسالت کو بندکرنے کے لئے لگائی گئی ہے ۔ لہذا سلسلہ ٴ نبوت پر آنحضرت کے ذریعے مہر اختتام لگادی گئی ۔

 

علامہ آلوسی ( متوفی ۱۲۷۰ ۔ ہجری ) اپنی تفسیر روح المعانی میں فرماتے ہیں : لفظ نبی مشترک ہے مگر لفظ رسول کی ایک خاص اہمیت ہے ۔ لہذا جب آنحضرت کو نبیوں کی مہر کا اختتام کہا جاتا ہے تو لا محالہ اس کا مطلب رسولوں کی مہر اختتام ہی ہوا ہے۔ ( جلد ۲۲ ۔ ص ۳۲) جو کوئی یہ دعوی کرے کہ حضر ت محمد مصطفی کے بعد اب کسی پر وحی نازل ہوتی ہے تو وہ کافر قرار دیا جائے گا ۔ مسلمانوں کے درمیان اس کے متعلق کوئی دو رائے نہیں ہے ۔ ( ج ۲۲۔ ص ۳۸ ) خدا کی کتاب میں خاتمیت حضرت محمد مصطفی بالکل واضح اور آشکارہ ہے ۔ سنت سے اس کی کھلی نشاند ہی ہوئی ہے اور امت کا اس پر اجماع ہے ۔ لہذا جو کوئی اس کے خلاف اختلافی دعوی کرے گا وہ مرتد قرار دیا جائے گا ۔

ج ۲۲ ۔ ص ۳۹

 

ان تما م ٹھوس دلیلوں کے بعد قارئین کی دقیق نظروں کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرنا چاہوں گا کہ جتنے بھی دعوائے نبوت کرنے والے گزرے ہیں ۔ چاہے وہ غلام احمد قادیانی ہو یا مرزا علی محمد و حسین علی نوری بہا ء اللہ ان سب کی کتابوں میں صاف طور سے اس قسم کے جملے ملیں گے کہ بہاء اللہ نے اپنے آپ کو نبی کہلوایا ۔ یا نبی ہونے کا دعویٰ کیا ۔ جو خود قبولیت کی محتاج ہے جب کہ انبیاء کرام صرف اعلان کیا کرتے تھے ۔ اور اپنے آپ کو منوانے پر زور نہیں دیتے تھے بلکہ ایک اللہ کی طرف بلانے پر زور دیتے تھے ۔ اس کے علاوہ وہ جھوٹے دعویداران نبوت میں اعلان نبوت کے جملے میں خود پسندی ، انا جھلکتی نظر آتی ہے جب کہ سچے نبی یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ انی عبد اللّٰہ آتانی الکتاب و جعلنی نبیا میں اللہ کابندہ ہوں ۔ کتاب لے کرآیا ہوں اور اس نے مجھے نبی بناکر بھیجا اور نبی کریم نے فرمایا ۔ قولو ا لا الہ الا اللہ تفلحو ا اے لوگو! کہو نہیں ہے کوئی خدا سوائے اللہ کے اور فلاح پانے والوں میں شمار ہوجاوٴ ۔ یہی نہیں تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ سچے نبیوں کو جھٹلانے والی قومیں تباہ و برباد ہوگئیں لیکن ان نبیوں پر ایمان لانا آج بھی ہر مسلمان کے ایمان کی شرط ہے ۔ اور جھوٹے نبیوں کو جھٹلانے والے آج بھی موجود ہیں اور وہ خود جہنم کے عذاب کا مزہ چکھ رہے ہوں گے ۔ بہر حال ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ جھوٹے دعویداران نبوت کا تا حد امکان قولی وفعلی انکار کرے تاکہ قیامت میں نبی کریم کو منھ دکھا سکے ۔

        ختم نبوت : مقدمہ

        ختم نبوت -خَتَمَ کے معنی لغت کی رو سے

        ختم نبوت -خاتم : قرآن کے نقطہٴ نظر سے

        ختم نبوت -خاتمیت حضرت محمد مصطفی کے متعلق علماء اہل سنت کے مصادر سے لی گئیں احادیث

        ختم نبوت -صحابہ کرام کا اجتماع

        ختم نبوت -اجماع علماء اہلسنت



blog comments powered by Disqus
HOME | BACK
©TheBahaiTimes.com