بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰن الرَّحِم
IN THE NAME OF ALLAH, THE MOST BENEFICIENT, THE MOST MERCIFUL

for english version of this website visit WWW.BAHAIAWARENESS.COM | feedback? write to faruqsm@gmail.com 

ختم نبوت -خَتَمَ : کے معنی لغت کی رو سے

عربی ادب میں ختم متفقہ طور پر تکمیل کے معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے محققین اور علماء بغیر کسی استثناء کے اس لفظ کے معنی مہر لگانا ، مکمل کرنا ، بتاتے ہیں ۔ ذیل میں اس لفظ کے معنی کے لئے مختلف مشہور عربی ادبیوں کے اقوال پیش کئے جاتے ہیں ۔

 

ایڈورڈ لین اپنی مشہور و معروف قاموس عربی انگلش میں جو کہ دنیا کی بہترین و مسنتند ومعتبر لغتوں میں سے مانی جاتی ہے ۔ لکھتا ہے :

 

خَتَمَ : مطلب اس نے مہر لگادی ، نشان یا ٹھپہ نقش کیا گیا ، علامت مقرر کردی مثلا ً خَتَمَ شَہَادَة، یعنی گواہی پر مہر لگانا ، یا جیسے قرآن کریم میں ہے خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ یعنی اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگادی ۔ یہ لفظ خاتمے کے معنوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے مثلا ً خَاتَمَ شَیْءٍ یعنی وہ کسی شئے کے خاتمے تک پہنچ گیا ۔ یہ ختم قرآن یعنی وہ قرآن کے اختتام تک پہنچ گیا ۔ (اس نے قرآن مکمل کرلیا ، ختم کرلیا (

 

خَتاَم : یعنی چکنی مٹی سے بنی ہوئی مہر یا نشانی جو کسی تحریر یا کسی شئے پر لگایا جاتا ہے یا وہ مہر یانشان جو کسی شئے یا تحریر پر ہو ۔

 

خَاتِمْ خَاتَمْ: یعنی لوگوں کے مجموعے پر آخری ۔ مثلا ً خاتم النبیین یعنی نبیوں میں سے آخری یا خاتم الا نبیاء یعنی انبیاء کی آخری فرد یعنی محمد ۔ ( یہ نوٹ کیا جائے مندرجہ بالا الفاظ و امثال ہمارے نہیں بلکہ خود مصنف قاموس کے ہیں ) خاتم اس انگوٹھی کو بھی کہتے ہیں جو مہر یا نشان لگانے کے استعمال میں لائیں جاتی ہے ۔

قاموس عربی ۔ انگلش از ایڈ ورڈ لین صفحہ ۷۰۲۔ ۷۰۳

 

مَخْتُوْمْ : یعنی ہر مہر شدہ یا نشان شدہ

 

علامہ ابن منظور لسان العرب میں فرماتے ہیں : خَتَمَ : یعنی مہر ۔ مَختوم یعنی مقفل ، مہر شدہ ۔ لغت کے رو سے خَتَمَ اور تَبَعَ ہم معنی ہیں ۔ دونوں لفظوں کا مطلب ہے مہر شدہ اور یہ کہ اب کوئی نئی چیز اس میں داخل نہیں ہوسکتی ۔

خَتَمَ : یعنی ممانعت

مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النّبِیِّنَ

سورہ احزاب نمبر ۴۱

 

علامہ ابن منظور مزید فرماتے ہیں کہ لفظ ختم مہر کے معنوں میں استعمال کیا جاتا تھا جو کہ دستاویزات کاغذات و معاہدات پر لگائی جاتی تھی ۔ چونکہ پہلے انگوٹھی مہر کے طور پر استعمال کی جاتی تھی لہذا اس انگوٹھی کو ہی خاتم کہا جانے لگا ۔ لہذا وہ انگوٹھی جو ہاتھ کی زینت اور ایک زیور تھی اب مہر ( خاتم ) کے مترادف ہوگئی ۔

لسان العرب : صفحہ ۲۴۔ ۲۵

 

راغب اصفہانی ایک ادیب اپنی کتاب المفردات میں فرماتے ہیں ۔ قیل خاتم القرآن انتہایة الی آخرہ یعنی کہا گیا ہے کہ خاتمہ القرآن یعنی قرآن کو اس کے آخر تک مکمل کرنا ۔ ( پڑ ھنا (

 

خاتم النبین : یعنی نبوت کا اختتام

فخر الدین طریحی ( متوفی ۱۰۷۵ھ) اپنی کتاب مجمع البحرین میں لکھتے ہیں :

خاتم النبین ( احزاب : ۳۳) ای آخرہم لیس بعدہ بنبیین ۔ یعنی وہ ( محمد ) ان سب کے آخر میں ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں ۔

 

من خاتم لہ بقیام اللیلة ثم مات فلہ الجنة

یعنی وہ شخص جو رات بھر عبادت میں کھڑا رہے اور اس حالت میں مرجائے تو اس کے لئے جنت ہے ۔

 

یہ تمام کتابیں مختلف صدیوں میں لکھی گئیں ۔ اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ ہر کوئی اس لفظ کے معنوں کے متعلق متفق ہے ۔

 

اب بہائی اور قادیانی حضرات ہمارے سامنے آتے ہیں او رہمیں اس لفظ کے نئے معنی سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ یہ دونوں مذاہب دوسو سال قدیم نہیں ۔ ان کا اس لفظ کے معنی میں اختلاف کرنا قابل توجہ نہیں ۔ ان کے پا س کوئی علمی منطقی اور اصولی بنیاد نہیں جب کہ عربی داں علماء نے اس لفظ کی توضیح و تشریح کما حقہ کر دی ہے ۔ جس کے بعد کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی ۔ مزید بر آں یہ دونوں مذاہب عجم سے تعلق رکھتے ہیں اور غیر عرب سرزمین سے ابھرے ہیں لہذا چند نیم پڑھے لکھے عجمیوں کا عربوں کو ان کی زبان عربی پڑھانا کچھ عجیب مضحکہ خیز لگتا ہے ۔

 

عربی سے تعلق رکھنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ یہ وہ زبان نہیں جس پر آسانی کے ساتھ عبور حاصل کیا جا سکے ۔ لہذا کسی جاہل ایرانی مثلا ً مرزا علی محمد شیرازی ( باب) یا ویسے ہی کسی جاہل ہندوستانی مثلا مرزاغلام احمد قادیانی کا عربوں سے ان کی زبان کے

الفاظ و معنی کے متعلق اختلاف کسی بھی حال میں قابل توجہ قرار نہیں پاتا ۔

 

رسول خدا کے زمانے میں بھی اس لفظ کو مہر کے معنوں میں ہی استعمال کیا گیا اور اس پر کوئی اختلاف بھی نہیں تھا ۔ در حقیقت حضور کے پاس ایک انگوٹھی تھی جس پر محمد رسول اللہ نقش تھا ۔ آنحضرت اس انگوٹھی کو بطور مہر اپنے خطوط ، صلح نامے ، اور دوسرے دستاویزات پر لگایا کرتے تھے ۔ اور یہ مہر بذات خود اس بات کا ثبوت ہوتی تھی کہ اس دستا ویزیا دوسرے کا غذات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ۔ ہر وہ اضافہ جو مہر لگنے کے بعد ہو فریب اور دھوکا ہی کہلا یا جائے گا ۔ (تفسیر نمونہ ) صرف حضرت خاتم الانبیاء محمد ہی نہیں بلکہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس بھی ایک انگوٹھی تھی جسے وہ بطور مہر استعمال کیا کرتے تھے ۔ در اصل زمانہ قدیم میں اکثر بادشاہوں کے پاس اس قسم کی مہریں ہوا کرتی تھیں ۔

        ختم نبوت : مقدمہ

        ختم نبوت -خَتَمَ کے معنی لغت کی رو سے

        ختم نبوت -خاتم : قرآن کے نقطہٴ نظر سے

        ختم نبوت -خاتمیت حضرت محمد مصطفی کے متعلق علماء اہل سنت کے مصادر سے لی گئیں احادیث

        ختم نبوت -صحابہ کرام کا اجتماع

        ختم نبوت -اجماع علماء اہلسنت



blog comments powered by Disqus
HOME | BACK
©TheBahaiTimes.com