بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰن الرَّحِم
IN THE NAME OF ALLAH, THE MOST BENEFICIENT, THE MOST MERCIFUL

for english version of this website visit WWW.BAHAIAWARENESS.COM | feedback? write to faruqsm@gmail.com 

شيعہ نظریہ: مقدمہ

عرصے سے اس بات کی ضرورت تو محسوس کی جارہی تھی کہ نو ساختہ فرقہ بہائیہ وبا بیہء کی رد کی جائے لیکن شاید توفیقات شامل حال نہیں تھیں کہ اس عظیم کام کو انجام دیا جاتا اور دنیا بھر کے امت مسلمہ اور دیگر امتوں کو اس بات سے آگاہ کیا جاتا کہ یہ وحدانیت مذاہب کے گیت گانے والے دراصل مذاہب کے دشمن ہیں جو انسان دشمن سازشوں کی پشت پناہی کی وجہ سے اپنا بھیس بدل کر بھولے بھالے انسانوں کا خون چوس رہی ہیں۔ خداوندعالم جناب عمران شیخ صاحب اور افشین کو جزائے خیر دے۔ کہ انھوں نے اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اس عظیم کام کو انجام دیا۔ جس سے ان کا اسلام دشمن ہونا ہی نہیں بلکہ دنیائے انسانیت کا دشمن ہونا آشکار ہوگیا۔ مخصوصًاانکا نبوت کا دعویٰ مسمار ہوگیا۔ ہاں جس چیز کی تشنگی باقی رہ گئی تھی وہ بابیت و مہدویت کے دعوں کی رد تھی۔ جس کی ضرورت میں بھی محسوس کررہا تھا۔ اور عمران شیخ صاحب کے عرصہ دو سال کے اسرار نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ اگر میں کوشش نہیں کرتا ہوں تو شاید اس سلسلے میں مرنے کے بعد مجھ سے سخت باز پُرس کی جائے اور میں اس کے تشفی بخش جواب دینے سے قاصر ہوں ۔لہٰذا تیرہ رجب روز ولادت امیرالموٴمنین علیہ اسلام کی صبح زیارت روز مولود امیرالموٴمنین پڑھنے کے بعد انھیں حضرت سے مدد طلب کی ہے کہ چاہے عیدی کے طور پر یا بھیک کے طور پر توفیق مجھے عنایت کیجئے اور شاید انھیں کی نظر عنایت کا نتیجہ ہے کہ میں اس راہ پر گامزن ہوں امید ہے اور دعا گو ہوں کہ جس طرح امیرالمومنین علیہ السلام نے کبھی کسی کو یا کسی کام کو بیچ میں نہیں چھوڑا ہے ویسے ہی مجھے بھی اس کام کے انجام تک پہنچنے کی توفیقات عنایت کریں گے۔

 

دنیاء اسلام میں غالبًا بہائی حضرات یہ بات عام کررہے ہیں کہ یہ شیعیت سے نکلی ہوئی ایک شاخ ہے اور اس کا یقین لوگوں کو اس لئے بھی ہو جاتا ہے کہ ان کی ابتداء سرزمین ایران سے ہوئی۔ جو واقعًاایک کثیر شیعہ آبادی والا ملک ہے اس کے جواب میں دو باتیں عرض کرنی ہیں۔ ایک پہلے کے جواب میں اور وہ یہ کہ جب اللہ نے جناب نوح کی اولاد کے لئے قرآن میں عرض کردیا۔

 

ترجمہ:اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے کہا اے نوح بیشک وہ تمہاری آلٰ میں سے نہیں بیشک اسکا عمل غیرصا لح ہے۔ اور پھر دینا میں یہ روزبروز ہوتا رہتا ہے کہ اگر بیٹا باپ کا فرمانبردار نہیں ہوتا یا باپ کی زندگی میں اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس کے عہدے پر فائز ہونا چاہتا ہے تو باپ بیٹے کو عاق کردیتا ہے ۔ یعنی میری پدری سے نکل جا تو پھر ان نالائق اولادوں کاکیا ذکر جو اپنے باپ کی زندگی میں نہ صرف یہ کہ اسکے عہدے پر فائز ہوں بلکہ امت کے باپ کا خود ہی انکار کریں۔ لہٰذا رسول اکرم نے ارشاد فرمایا:

من انکر واحدًا منی فقد انکرنی ۔ من انکراًخِراً منی فقد انکرنی۔

جو کوئی ہم میں سے کسی ایک کا انکار کرے گویا اس نے میرا انکار کیا۔ یا جس نے میرے آخرکاانکار کیا اس نے میرا انکار کیا ۔

 

شاید ایسے لوگوں کے لئے حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا تھا۔

اے میرے شیعوبیشک تمہیں خالص کیا جائے گا جیسے آنکھوں کو سرمے سے خالص کیا جاتاہے یعنی انسان کوسرمہ لگاتے وقت تومعلوم ہوتا ہے لیکن وہ کب نکل جاتا ہے اسکا پتہ نہیں لگتا بلکل اسی طرح صبح کوتوہماراچاہنے والاباایمان ہوگا لیکن شام کو ہماری ولایت سے خارج ہوگیا ہوگا یا رات میں باایمان ہوگا اورصبح ہوتے ہوتے بے ایمان ہوجاہیگا۔

غیبت نعمانی سبق۱۲ صفحہ۲۰۷۔۲۰۶

 

دوسری بات یا وجہ جس کی وجہ سے لوگوں کو یقین ہونے لگتا ہے کہ یہ شیعوں کی ایک شاخ ہیں وہ یہ کہ یہ لوگ ایران سے پنپے ہیں۔ اس کے جواب میں عرض ہے کہ اگر آپ تاریخ اسلام اور اس کے پہلے کے جاہلیت کے دور پر نظر کریں۔ جس کی گواہی قرآن نے ان الفاظ میں دی ہے۔

وَلَمَّاجَآءَ ھُمْ کِتٰبٌمِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ مُصَدِّقٌلِّمَامَعَھُمْ وَکَانُوْامِنْقَنْلُ یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَی الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَلَمَّا جَآءَ ھُمْ مَّاعَرَفُوْا کَفَرُوا بِہ فَلَعْنَةُ اللّٰہِ عَلَی الْکَافِرِیْنَ۔

سورہ بقرہ آیت ۸۹

پس وائے ہو ان لوگوں پر جو اپنے ہاتھ سے کتاب لکھتے ہیں پھر (لوگوں سے) کہتے(پھرتے) ہیں کہ یہ خدا کے ہاں سے آئی ہے تاکہ اس کے ذریعے سے تھوڑی قیمت (دنیوی فائدہ) حاصل کریں۔ پس افسوس ہے ان پر کہ ان کے ہاتھوں نے لکھا اور پھرافسوس ان پر کہ وہ ایسی کمائی کرتے ہیں۔

 

کے ذیل میں شیعہ و سنی تفسیر میں رقمطراز ہیں کہ۔

رسول خدا کی ولادت و بعثت سے پہلے یہودی مکہ میں آگئے تھے۔ کیونکہ ان کی کتابوں میں لکھا تھا کہ وہ نبی آنے والا ہے۔اور اس نبی کے واسطے سے کفار قریش کو ڈراتے تھے۔ کہ نبی آکر تمہارے بتوں کو توڑ دے گا۔ اور اُسی کے واسطے سے دعا کرکے کفار قریش پر فتح و کامرانی حاصل کرتے تھے۔ لیکن جب وہ رسول آیا تو انھیں لوگوں نے جھٹلادیا۔

آثار حیدری ص۵ ۳۴

 

تو کیا ہم یہ کہیں گے کہ یہ یہود ی جو مکہ میں قیام پذیر تھے اور رسول اللہ کا اقرار اور ان کے توسّل سے کفار قریش پر فتح و کامرانی حاصل کرنے والے اسلام کی شاخ ہیں ۔ نہیں ہم یہ نہیں کہیں گے کہ یہ لوگ موقع پرست تھے ۔ اور انھیں مادّی پرست دنیا اور منافقت نے اس طرح دبوچ رکھاتھا کہ ہدایت کے راستے ان کے لئے میلوں دور تھے۔ تاریخ شاہد ہے انقلاب ایران سے پہلے یہی یہودیوں کے بھیجے ہوئے لوگ ایران میں آکر بس گئے ۔ اور یہودیوں کی طرح ان لوگوں نے بھی ایران میں جنگیں لڑیں۔ اور آج یہ حکومت کی فرمانبرداری کے گیت گاتے ہیں۔اور پھر انھیں ایران سے باہر کردیا گیا۔ اگر اس وقت کے مکہ میں رہنے والے یہودیوں کو اسلام کی شاخ نہیں کہا جا سکتاتو آج کے ان یہودیوں کوشیعت کی شاخ بھی نہیں کہا جاسکتا۔

 

بہائی حضرات صحیح بخاری کی حدیث:

لاَیَزالُ ھٰذَاالذین اِلَّااثناعشر خلیفہ۔

 

یعنی دین اس وقت تک زوال کو نہیں پہنچے گا اب تک اس کے بارہ خلیفہ نہ ہوجائیں۔(باب الخلفاء)۔

اور رسول اکرم کی یہ حدیث

لَوْلَمْ یَبْقِ مِنَ الدَّھْرِ اِلَّا یَوْمٌوَاحِدٌلَطَوّلَ الّلہُ ذَالِکَ اَلْیَوْمَ حَتَّی یَمْلِکَ رَجُلٌ مِّنْ اَھْلِبَیْتِیْ یَمْلَاءُ الْاَرْضَ قِسْطاً وَّعَدْلاًکَماَمُلِٴتْ بِہِ ظُلْماً وَّجَوْراً۔

ترجمہ:اگردنیاکاایک دن بھی با قی رہ جا ٴے گا تواللہّ اُس دن کو اتنا لمبا کردے گا کہ میرے اھلبیت سے ایکشخص ظھورکرے گا جو دنیا کو عدل وانصاف سے اُسی طرح بھردیگا جیسا کہ وہ ظلم وجورسے بھری ہوگی۔

مسنداحمدبن حنبل جلد۲صفحہ۳۷

 

یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ سلام حضرت مہدی علیہ السلام کی آمد کے بعد ختم ہوجائے گا۔ لہٰذانھوں نے اپنے بانی مرزاعلی محمد باب کو اس منصب پر فائز کرنا چاہا۔

 

اس سلسلے میں انھوں نے دو طریقہ کار اپنائے۔ ایک تو غلط حدیثوں کا مکمل حوالہ دےئے بغیر مرزا علی محمد کو مہدی ثابت کرنا چاہا۔ اور دوسرے شیعوں کے اصل مہدی میں شک و شبہات ڈالے تاکہ اصل عمارت جب منہدم ہو جائے تو پھر دوسری خود ساختہ عمارت منظر عام پر لا ئی جائے۔ لیکن شاید انھوں نے خود مرزا علی محمد باب کے اس قول پر نظر نہیں کی جہاں وہ خودارشاد فرماتے ہیں۔

حَلال محمدٌ حلالٌ ابدًا الیٰ یوم القیامة و حرام محمد حرام الٰی یوم القیامہ۔

صحیفہ ٴادلیہ

 

ہم یہاں جس انداز میں شروع کر رہے ہیں وہ بہائیوں کے کچھ شکوک و شبہات ہیں حضرت قائم علیہ السلام کے بارے میں اور پھر اس کا جواب تاکہ باتیں پہلے اصل مہدی کے بارے میں صاف ہوجائیں تو پھر جھوٹا خود ثابت ہوجائے گا۔ کیونکہ اصل کی پہچان ہی وہ بہترین طریقہ ہے جس کی طرف اشارہ قرآن کی خود اس آیت نے بھی کی ہے۔

 

وَقُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَزَھَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَھُوْقًا۔

ترجمہ: اور (اے رسول) کہہ دو کہ (دین) حق آگیا اور (دین) باطل نیست و نابود ہوا اس میں شک نہیں کہ باطل مٹنے والا ہی تھا۔

سورہ بنی اسرائیل آیت ۸۱

 

لہٰذا آئیے ہم بہائیوں کے اعتراضات پر نظر کریں تاکہ ہم کو حق کی پہچان ہو جائے اور ہم اس باطل کے شکنجے سے اپنے آپ کو محفوظ کر سکیں۔

 

        شيعہ نظریہ: مقدمہ

        : پہلا شک: مہدی علیہ السلام کا نام

        دوسرا شک حضرت مہدی کے بارے میں نص موجود نہیں

        والدہ کے نام میں شک ڈال کر ولادت سے ہی انکار

        شبہاتِ ولادت

        : دنیا کا امام سے خالی رہنا

        اسلام بزور شمشیر پھیلائیں گے

        حضرت امام مہدی نئی شریعت اور نئی کتاب لے کر آئیں گے



blog comments powered by Disqus
HOME | BACK
©TheBahaiTimes.com