بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰن الرَّحِم
IN THE NAME OF ALLAH, THE MOST BENEFICIENT, THE MOST MERCIFUL

for english version of this website visit WWW.BAHAIAWARENESS.COM | feedback? write to faruqsm@gmail.com 

شيعہ نظریہ: شبہاتِ ولادت

بہائی حضرات ماں کے نام کے بعد اب آگے بڑھتے ہوئے بڑے جسارت آمیز انداز میں شواھد شھادت کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں کہ تاریخ میں کل دور اوی ملتے ہیں جو اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ امام عسکری علیہ السلام کے یہاں کوئی لڑکا بہ نام محمد پیدا ہوا۔ ایک تو امام محمد تقی علیہ السلام کی بیٹی اور امام حسن عسکری علیہ السلام کی پھوپھی حکیمہ خاتون ہیں اور دوسرا راوی عقید ہے جو امام حسن عسکری علیہ السلام کا خادم ہے۔

 

جوابات:

ولادت کے عینی شاہد کی جہاں تک بات ہے ۔ تاریخ اٹھا کر دیکھئے کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کے نام کے آگے عسکریکیوں لگا اس لئے کہ بادشاہ وقت نے امام کو عسکر میں رکا رکھا تھا جو فوجی چھاوٴنی کو کہتے ہیں۔ تاریخ میں ملتا ہے امام کے مخلص شیعہ کبھی تیل بیچنے کے بہانے کبھی کوئی اور چیزبیچنے کے بہانے امام کی زیارت سے مشرف ہوا کرتے تھے۔ ایسے ماحول میں ولادت کے عینی شاہدین کہاں سے مل پائیں گے ۔

 

عام طور سے بھی ولادت کے عینی شاہدین کہاں ہوا کرتے ہیں ۔ ایک داعی یاآج کل وہ ڈاکٹر جو زچکی کراتی ہے۔ اور شاید اسپتال کی آیا ۔ورنہ اور لوگ کہاں عینی شاہد ہوا کرتے ہیں ۔ اس سلسلے میں ایک دلچسپ چٹکلا یاد آگیا وہ بھی سنتے چلئے ۔ ایک صاحب کی دادی بیان کرتی ہیں کہ بیٹاجب تم پیدا ہوئے تھے تو میں جب اسپتال پہنچی تو دیکھا کہ ایک ہی جھولے میں دو بچے لیٹے ہیں اور دونوں ہی لڑکے اتنے میں ہماری ایک سہیلی اور آگئیں میں نے اس سے کہا کہ دیکھو دونوں لڑکے ہو گئے میں چاہتی تھی کہ ایک لڑکی ہوتی اور ایک لڑکا ۔ اسپتال کی نرس یہ بات سن رہی تھی ۔بھاگی بھاگی گئی اور ڈاکٹر کو بتایا ۔ڈاکٹر فوراً آئی اور مجھ سے کہتی ہے تیری بہو سے پوچھ لے اس کو ایک ہی بچہ ہوا ہے تو جاتے وقت مجھ سے دو مانگے گی تو میں کہاں سے دونگی۔ جناب جب آج کے ترقی یافتہ آزادانہ ماحول میں ایک ڈاکٹر اور ایک نرس عینی شاہد ہوا کرتے ہیں تو اُس وقت کے دور میں کہاں لوگ ہوا کرتے تھے۔

 

جناب باب مرزا حسین علی ، عبدالبہاء اور شوقی آفندی کے لئے تو وہ بھی ایک سے زیادہ گواہ نہیں ملتے۔

 

سب سے بڑا گواہ تاریخ کا رجسٹر ہوا کرتا ہے ۔ اور Birth Certificateہوا کرتا ہے جو محکم اور جب چاہیں تب معلوم کرلیں۔

 

آپ کی معلومات میں اضافے کی غرض سے ۱۲۰ /تاریخ دان عامہ نے حضرت کی ولادت کو نقل کیا ہے۔ شیعوں کی تو تعداد چھوڑئیے اور یہ سب کے سب آپکے مذہب کی بنیاد سے پہلے گذر چکے ہیں

 

پھر بھی آپ کایہ دعویٰ بالکل بے بنیاد ہے ۔ علامہ مجلسی علیہ الرحمة نے کم از کم ولادت امام کی خبر دینے والے راویوں کی تعداد کم از کم ۱۸/ بتائی ہے۔ ہم یہاں ان میں سے کچھ کا ذکر کر رہے ہیں۔

 

پہلی شہادت

معلّی بن محمد کا بیان ہے کہ امام حسن عسکری کی توقیع باین مضمون وارد ہوئی ۔جب کہ زبیری قتل ہوگیا اُس شخص کی یہی جزاء ہے ۔ جو اولیاء خدا کے بارے میں افتراء پر دازی کرتا ہے ۔ اُس کا یہ خیال تھا کہ وہ مجھے اس عالم میں قتل کردے گا کہ میرا سلسلہ آگے نہ بڑھے ۔ دیکھا خدا کی قدرت کیوں کر ظاہر ہوئی حالانکہ حجة کی ولادت ہو گئی۔

بحار ج ۵۱ص۴

 

اس حدیث کو پڑھنے کے بعد اب یہ اعتراض ہو کہ نام تو بتایا ہی نہیں تو پھر ان حدیثوں پر نظر کریں جس میں امام عصر علیہ السلام کا نام لینے کو منع کیا گیا تھا۔

 

دوسری شھادت:

احمد بن حسن قمی کا بیان ہے ․․․․․․امام حسن عسکری علیہ السلام کا خط آیا کہ فرزند پیدا ہوا اُس کو مخفی اور پوشیدہ رکھنا ہے ہم نے صرف مخصوصین پر اس کو ظاہر کیا ہے۔ بحارج۵۱ص۱۶

 

تیسری شھادت:

ابوالحسن امام علی نقی نے اپنی بہن حکیمہ سے فرمایا:

اے نبت رسول اللہ انھیں (نرجس کو) اپنے گھر لیجا کے فرائض و سنن کی تعلیم دیجیے ۔ فانہا زوجة ابی محمد و امّ القائم ۔ اس لئے کہ یہ امام حسن عسکری علیہ السلام کی زوجہ اور حضرت قائم کی والدہ ہیں۔

امام کا ارشاد خود واجب الاذخان پھر اس پر زور یہ کہ جملہ بعنوان خبر پیش فرمایا ہے جو قواعد عربیہ کے لحاظ سے حتمی الوقوع ہونے پر دلالت کرتا ہے۔

 

چوتھی شھادت:

ابراہیم بن محمد سے نسیم خادمہ امام حسن عسکری علیہ السلام نے بیان کیا کہ حضرت حجة کی ولادت کے دوسرے روز میں آپ کے سامنے گئی چھینک آئی تو آپ نے یرحمک اللہ کہا۔

بحار ج ۵۱ص۵

 

پانچویں شہادت:

نسیم اور ماریہ کا متفقہ بیان ہے کہ جب امام زمانہ بطن مادر سے زمین پر تشریف لائے تو گھٹنے زمین پر ٹکے ہوئے تھے اور دونوں انگشت شہادت آسمان کی طرف بلند تھیں۔ پھر حضرت کو چھینک آئی تو فرمایا الحمدللہ رب العالمین۔

بحار ج ۵۱ص۵حدیث ۷

 

چھٹی شہادت:

ابو غانم خادم کا بیان ہے کہ ابو محمد امام حسن عسکری علیہ السلام کے ایک فرزند پیدا ہوا جس کا نام آپ نے م۔ح۔م۔د رکھا ۔ تیسرے دن آپ نے اس مولود کو اپنے اصحاب پر پیش فرمایا ۔

ھٰذا صاحبکم من بعدی و خلیفتی علیکم۔

میرے بعد یہ تمہارے صاحب اور تم پر میرا خلیفہ ہے یہی وہ قائم ہے جس کا انتظار کیا جائے گا جب ظلم و جور سے دنیا بھر جائے گی تو یہ ظاہر ہو کر اسے عدل و داد سے بھر دے گا۔ بحار ج ۵۱ص۵حدیث ۱۱

 

نوٹ: امام نے فرمایا کہ وہ ظاہر ہو کر عدل و داد سے بھر دے گا نہ کہ جانے کے بعد اس کے لوگ عدل کا انتظار کریں گے جیسا کہ بہائی حضرات کر رہے ہیں ۔ اور لیجئے اس سے بھی صاف اور کوئی گواہی چاہئے۔

 

ساتویں شہادت:

ابو نعر خادم کا بیان ہے کہ میں امام زمانہ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔آپ نے سرخ مندل طلب کیا میں نے لاکر حاضر کیا فرمایا تم مجھے پہچانتے ہو ؟ میں نے کہا آپ میرے آقا اور آقا کے فرزند ہیں فرمایا ․․․․․․․میں خاتم الاوصیاء ہوں ۔

بحار ج ۵۱ص ۱۱۴

 

آٹھویں شہادت:

ابراہیم صحابی امام عسکری علیہ السلام کا بیان ہے کہ امام نے چار مینڈھے میرے پاس مع اس پر تحریر کے روانہ فرمائے۔ بِسمِ اللہ الرحمٰن الرحیم۔ یہ میرے فرزند مہدی کی طرف سے ہیں۔ تم بھی کھا وٴ اور ہمارے شیعوں کو بھی کھلاوٴ۔

بحار ج ۵۱ ص۱۰

 

نویں شہادت:

احمد بن اسحاق کا بیان ہے کہ پھر امام حسن عسکری علیہ السلام چودھویں رات کے چاند کے مانند تقریباً سہ سالا فرزند کو کاندھے پر لئے ہوئے برآمد ہوئے اور فرمایا کہ اگر تیرا اعزازنہ مقصود ہو تا تو ہرگزمیں سا کو نہ دیکھاتا۔ یہ میرا فرزند ہم نام و ہم کنیت رسول اللہ ہے۔

بحار ج ۵۱ص ۱۱۲

 

دسویں شہادت:

ابراہیم بن ادریس کا بیان ہے ۔پھر میرے پاس دو مینڈھے امام حسن عسکری علیہ السلام نے بھیجے اور بعد بسم اللہ کے لکھا۔ ان دونوں کو اپنے آقا کی طرف سے عقیقہ کرکے خود بھی کھا اور اپنے بھائیوں کو بھی کھلا۔

بحارالانوار ج ۵۱ص ۸

 

گیارہویں شہادت:

حمزہ بن نعر نے اپنے باپ سے روایت کی ہے اس کا بیان ہے کہ ولادت کے موقع پر گھر والوں میں خوشیاں منائی گئیں جب شاہزادے کی نشو نما ہونے لگی تو مجھے گوشت کے ساتھ گودہ دار نلی کی خریدی کرنے کا بھی حکم ملا۔ اور مجھ سے کہا گیا کہ یہ ہمارے چھوٹے آقا کے لئے ہے۔ بحار ج ۵۱ص۸

 

بارہویں شہادت:

حسین بن علوی کا بیان ہے ․․․․․․․․میں سامرہ میں امام حسن عسکری علیہ السلام کے پاس ان کے فرزند کی ولادت کی مبارک یاد کے لئے حاضر ہوا۔

بحار ج ۵۱ ص ۶

 

تیرہویں شہادت:

اسماعیل بن علی نو بختی کا بیان ہے ۔فرزند مصطگی کا جوشاندہ کر پلایا ۔پھر نماز کے لئے وضو کرایا۔ پھر بیمار باپ نے فرمایا کہ بیٹا !مبارک ہو تم صاحب الزمان اور مہدی ہو۔

بحار ج ۵۱ ص ۱۱۰

 

چودھویں شہادت:

احمد بن عبداللہ ہاشمی کا بیان ہے ․․․․․․․میں امام حسن عسکری علیہ السلام کی وفات کے موقع پر ان کے گھر گیا اور حضرت کا جنازہ نکالا گیا ۔ہم ۳۹ (انتالیس) آدمی بیٹھے ہوئے منتظر تھے کہ ایک پورے قد کا ردا پوش نو جوان بر آمد ہوا ہم اس کی ہیبت سے گھبرا گئے پھر ہم سب نے اس کے پیچھے نماز پڑھی۔

بحار ج۵۱ص ۱۰۷

 

ان شہادتوں کے علاوہ بے شمار چیزیں حضرت حجت کی ولادت کے ثبوت میں موجود ہیں۔ جن کو بخوف تطویل ترک کیا گیا ہے۔ اس مختصر بیان سے قارئین پر یہ امر اچھی طرح سے واضح ہو گیا ہوگا کہ حضرت کی ولادت کا ثبوت صرف حکیمہ خاتون یا عقید خادم کے بیان پر نہیں موقوف ہے بلکہ بالفرض یہ دونوں شہادتیں نہ بھی ہوتیں تو بھی ان کی ولادت ثابت تھی۔ شاید کوئی ان شہادتوں سے یہ نکتہ نکالے کہ ان سب کو تو حضرت امام حسن علیہ عسکری نے ہی بتایا۔ لہٰذا ایک ہی راوی ہے جو مودبانہ عرض ہے کہ بیٹے کی پیدائش کی خبر باپ یا گھر والے ہی دیا کرتے ہیں۔ یہ دوسروں کے یہاں کا طریقہ ہوگا کہ بیٹے کی پیدائش کی خبر کوئی اور دیتا ہو۔ دادا اس دنیا میں موجود نہ تھا ۔چچا خود دعویٰ کے چکر میں تھا۔ نانا اور نانی کا سوال ہی نہیں اٹھتا کیوں کہ ماں کنیز تھی۔ اور پھر دادا نے تو آنے سے پہلے ہی خبر دے دی تھی۔

 

ان سب شہادتوں کے علاوہ دورانِ غیبت صغریٰ نائبین کے ذریعے شیعوں کے بغیر سیاہی سے لکھے ہوئے سوالوں کے صحیح جواب دے کر ثابت کردیا کہ دنیا حجت خدا سے خالی نہیں ۔کیا یہ ان کی پیدائش کی دلیل نہیں۔

 

دورانِ غیبت صغریٰ آپ نے بہت سے لوگوں کو شرف ملاقات عنایت کیا جن کی تعداد کا معین کرنا مشکل ہے اور اسی طرح دوران غیبت کبریٰ میں آج بھی لوگوں کو شرف ملاقات عنایت کرتے ہیں ۔ یہ نہ صرف پیدا ہونے کی دلیل ہے بلکہ بقا کی بھی جیتی جاگتی دلیل ہے۔

 

ان تمام دلیلوں کے بعد اگر اب بھی ان کی ولادت اور وجود ثابت نہیں ہوتا ۔ تو پھر شاعر کا وہ شعر یاد آتا ہے جو کہتا ہے ۔

کس طرح نظر آئے انھیں جلوہ مہدی

سورج نہیں دیکھتی معذور نگاہیں

 

        شيعہ نظریہ: مقدمہ

        : پہلا شک: مہدی علیہ السلام کا نام

        دوسرا شک حضرت مہدی کے بارے میں نص موجود نہیں

        والدہ کے نام میں شک ڈال کر ولادت سے ہی انکار

        شبہاتِ ولادت

        : دنیا کا امام سے خالی رہنا

        اسلام بزور شمشیر پھیلائیں گے

        حضرت امام مہدی نئی شریعت اور نئی کتاب لے کر آئیں گے



blog comments powered by Disqus
HOME | BACK
©TheBahaiTimes.com