بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰن الرَّحِم
IN THE NAME OF ALLAH, THE MOST BENEFICIENT, THE MOST MERCIFUL

for english version of this website visit WWW.BAHAIAWARENESS.COM | feedback? write to faruqsm@gmail.com 

شيعہ نظریہ: دوسرا شک حضرت مہدی کے بارے میں نص موجود نہیں

نام کا جواب پا جانے کے بعد بہائی حضرات کہتے ہیں کہ حجة ابن الحسن پر اللہ ،رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور دیگر آئمہ معصومین علیہم السلام سے کوئی نص مخصوصاً موجودنہیں۔

 

جوابات:

اس سے پہلے کہ ہم شیعہ ذرائع سے حضرت مہدی علیہ السلام کی نص آپکے سامنے ایک کے بعد ایک کر کے پیش کریں آپ بہائی حضرات سے دست بستہ گذارش ہے کہ لفظ باب کی توضیح کردیجئے لفظی اعتبار سے بھی اور اصطلاحی معنوں میں بھی ۔ باب کے لفظ میں معنی ہوتے ہیں دروازے کے اور بہائی اصطلاح میں یہ لقب مرزا علی محمد نے اپنے لئے انتخاب کیا تھا کہ میں امام زمانہ علیہالسلام تک پہنچنے کا ذریعہ ہوں تو وہ امام زمانہ کون تھے۔ سوائے حجة ابن الحسن کے ۔ دیکھئے بہائیوں کی کتاب - ص۴۰.

 

مرزا علی محمد باب نے خود بھی صحیفہ عدلیہ کے صفحہ ( ۴۰).پر دعا کرتے ہوئے بارگاہِ خدا وندی میں شہادت کے طور پر فرمایا ہے تمام آئمہ معصومین علہیم السلام کا نام لینے کے بعد حجةابن الحسن کیا اس کے بعد بھی شک کی گنجائش باقی رہ جاتی ہے ۔

 

اس شک کو دور کرنے کے لئے اگر ہم ایک مستقل کتاب لکھنا چاہیں تو باکمک حضرت ولی عصر ممکن ہے ۔ ذیل میں بحر حال اللہ تبارک و تعالیٰ سے شروع کرکے ہم تمام آئمہ معصومین علہیم السلام سے روایت حوالے کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔

)الف) نص خداوند عالم:حدیث جابر بن عبداللہ انصاری بطریق مختلف بحوالہ صحیفہٴ فاطمہ جسے لوح فاطمہ بھی کہتے ہیں جو امام حسین علیہ السلام کی ولادت کے وقت جبرئیل بارگاہِ خدا وندعالم سے لے کر نازل ہوئے تھے جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بار گاہ میں پیش کیا اور آپ نے اُسے جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کے سپرد کیا۔ اس حدیث قدسی میں تمام آئمہ معصومین کے علی الترتیب ذکرکے بعد خداوند عالم نے ارشاد فرمایا:

ثم اُکَمِّلُ ذالک بابنہ م۔ح۔م۔د ای ابن الحسن رحمة للعالمین علیہ کمال موسیٰ و بہاء عیسی و صبر ایوب۔

 

یعنی پھر میں اس سلسلے کو کامل بناوٴں گا ان کے اما م حسن عسکری کے فرزند م۔ح۔م۔د کے ذریعے جو رحمةللعالمین اور کمال موسیٰ۔ رونق عیسوی اور صبر ایوبی کا دارا ہوگا۔

بحارالانوار ج ۵۱ص ۵ باب نصوص علی اثنا عشر

 

نوٹ: اس حدیث کو مرزا حسین علی ملقب بہ بہاء اللہ نے بھی نقل کیا ہے ملاحظہ ہو۔ ) قرن بدیع ج ۱ ص ۳۵۶) جو مذہب بہائی کے خود ساختہ نبی ہیں۔

 

نص پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : علی الترتیب آئمہ کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں ۔

اِنَّ اللّٰہ تبارک و تعالیٰ رکب فی صلبِ الحسن نطفة مبارکة زکیة طیبة طاہرة مطہرة یرضی بہا کل موٴمن قداخذ اللّٰہ میثاقہ فی الولایة ویکفر بہا کل جاہد فہو امام تقی نقی مرضی ہادی مہدی یحکم بالعداویا مربہ یصدیق اللّٰہ عزوجل و یصدقہ اللّٰہ فی قولہ یخرج من تھامة حین تظہر الد لائل والعلامات۔

بحارجلد ۳۶ ص ۲۰۷

یعنی خدا نے صلب حسن عسکری میں ایک طیب و طاہر و پاکیزہ اور با برکت امانت کو قرار دیا ہے ۔ جس سے ہر وہ موٴمن خوش و راضی رہے گا۔ جس نے عہد میثاق میں ولایت کا اقرار کر لیا۔اورہر منکر اس کے ساتھ کفر اختیار کرے گا ۔ وہ فرزند امام عسکری پرہیزگار، پاکیزہ صفات خوش کردار ہادی خلق مہدی (دوراں) ہوگا۔ وہ عدل کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور اسی کا لوگوں کو حکم بھی دے گا۔ وہ خدا کی تصدیق کرے گا۔ جب کل علامتیں ظاہر ہوجائیں گی تو وہ تہامہ (مکہ) سے خروج کرے گا۔

 

نص پیغمبر: امیرالموٴمنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام اور حسنین علیہمالسلام کی امامت کا ذکر فرمانے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں ۔

وتسعة من ولد الحسین تاسعھم قائم امتی ․․․․․․ الخ

یعنی حسین کے بعد میرے نو فرزند امام ہوں گے اور نواں میری امت کا قائم ہوگا۔

بحارالانوار جیسی مجلد کتاب میں ۴۶ صفحات ایسی ہی روایتوں سے بھری ہے

 

نص علی ابن ابی طالب علیہ السلام : امیرالموٴمنین کے سامنے جب امام حسن علیہ السلام آتے تھے تو آپ مرحبا یا بن رسول اللہ فرماتے تھے ۔ اور جب امام حسین آتے تھے تو آپ:

بابی انت و امی یا ابا ابن خیرة الا باء

یعنی اے بہترین آباء رکھنے والے فرزند کے باپ تجھ پر میرے ماں باپ فدا ہو جائیں۔

چنانچہ لوگوں نے دریافت کیا کہ آخراس فرق کا سبب کیا ہے تو آپ نے فرمایا:

ذالک الفقید الطرید الثرید۔م۔ح۔م۔د بن الحسن بن علی بن محمد بن علی بن موسی بن جعفر بن محمد بن علی بن الحسین ھٰذاووضع یدہ علی راس الحسین علیہ السلام۔

یعنی وہ خیرةالاباء حجة ابن الحسن بن علی بن محمد ․․․․․․․․․․․․الخ ہیں حسین علیہ السلام پر پہنچ کر حضرت نے ان کے سر پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کے یہی حسین۔

بحار جلد ۵۱ص۱۱۰

 

نص امام حسن بن علی علیہ السلام :جب لوگوں نے امام حسن کے صلح کرلینے پر اعتراض کیا تو آپ نے مصالحت پر ملامت کرنے والوں کا جواب دیتے ہوئے حضرت قائم علیہ السلام کا ذکر فرمایا اور ارشاد فرمایا:

ذالک التاسع من ولد اخی الحسین۔

یعنی وہ قائم میرے بھائی کا نواں فرزند ہے ۔ بحار جلد ۵۱ص۱۳۲

 

نص امام حسین بن علی علیہ السلام:

قائم ھذہ الا مامة ہُو التاسع من ولدی۔

یعنی میرا نواں فرزند اس امت کا قائم ہے۔ بحار جلد۵۱ص۱۳۳

 

نص امام زین العابدین علی بن الحسین علیہ السلام : سلسلہ امامت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :

کہ جب تیسرا فرزند جعفر پیدا ہو تو اس کا نام صادق رکھنا اس لئے کہ جعفر (صادق) کی پانچویں نسل میں ایک شخص جعفر ہوگا جو خدا پر جراء کرتے ہوئے دعوائے امامت کرے گا۔ یہ شخص خدا کے نزدیک جعفر کذّاب ہے۔ یہ شخص اپنے باپ کا مخلف اور اپنے بھائی کا حاسد ہوگا۔ یہی وہ ہوگا جو غیبت ولی اللہ کے موقع پر ستر اللہ کو چاک کرنے کا ارادہ کرے گا۔ اس کے بعد آپ پر گریہ طاری ہوا اور آپ نے جعفر کذّاب کے دیگر مظالم کو بیان کیا۔ بحارج ۳۶ص۳۸۶

 

نص امام محمد باقر علیہ السلام : خلفت آدم سے دو ہزار سال پہلے کی قدرتی تحریر داوٴد بن کثیر کو دکھاتے ہیں۔ جس پر شہادتین کے بعد لکھا تھا۔

انّ عدة الشہور عنداللّٰہ اثنا عشر شہر اً فی کتاب اللّٰہ یوم خلق السموات والارض منھا اربعة حرم ذالک الدین القیم۔

بحار جلد۳۶ص۳۹۳

اس کے بعد دروازہ امام کے اسماء تحریر تھے۔

 

نص امام جعفر صادق علیہ السلام : سلسلہ وار آئمہ کا ذکر کرتے ہوئے آخر میں فرماتے ہیں ۔ثم محمد بن الحسن اس کے بعد محمد حسن کا بیٹا ہوگا۔

بحار جلد۳۶ص۳۹۷

 

نص امام موسیٰ کاظم علیہ السلام : حضرت سے یونس بن عبد الرحمٰن نے سوال کیا کہ آپ قائم بالحق ہیں ۔ فرمایا ہاں یہ بھی قائم بالحق ہوں۔

لکن قائم الذی یطہر الارض من اعداء اللّٰہ و بملاء ھاعد لا کما ملئت جوراً ہو الخامس من و لدی لہ غیبة یطول امرہ ․․․․․․․․الخ۔

یعنی وہ قائم جو زمین کو دشمنان خدا سے پاک کردے گا اور اسے عدل سے اُسی طرح پر کردے گا جس طرح وہ ظلم سے بھری ہو گی ۔ تو وہ میرا پانچواں فرزند ہو گا ۔ جس کی غیبت کی مدت طولانی ہوگی۔

بحار ج ۵۱ص۱۵۱

 

نص امام علی رضا علیہ السلام : دعبل خزائی ایک پائے کے شاعر تھے انھوں نے آئمہ کی مدح میں قصیدہ کہا تھا اور امام رضا علیہ السلام کی بارگاہ میں اسے سنانے آئے تھے ۔ ان کا قصیدہ سن چکنے کے بعد آپ نے ان سے پوچھا کہ یہ جس امام کے خروج کا ذکر تم نے کیا ہے کیا جانتے ہو کہ کون ہے ؟ عرض کیا نہیں ۔ مگر اتنا سنا ہے کہ آپ ہی میں سے وہ امام ہوگا۔ فرمایا

یادعبل الامام بعدی محمد ابنی و بعد محمد ابنہ علی و بعد علی ابنہ الحسن و بعد الحسن ابنہ الحجة القائم المنتظر فی غیبة․․․․․․․

یعنی اے دعبل میرے بعد امام محمد ہوں گے ان کے بعد ان کے فرزند علی ہوں گے ۔ اور علی کے بعد ان کے فرزند حسن ہوں گے اور حسن کے بعد ان کے فرزند الحجة القائم المنتظر ہوں گے جن کے لئے غیبت ہے۔

بحار ج ۵۱ص۸۵۴

 

نص امام محمد تقی علیہ السلام : ہمارا قائم میرا تیسرا فرزند ہیو

بحار ج ۵۱ص۱۵۶

 

نص امام علی نقی علیہ السلام:میرے بعدمیرابیٹا حسن امام ہوگا اورحسن کے بعداسکا بیٹا امام ہوگا جوقائم ہوگا اوروہ زمین کوعدل وانصاف سے بھر دیگا۔

بحارالانوار ج۵۱ص۱۵۹۔۱۶۰

 

نص امام حسن عسکری علیہ السلام :میرے بعدمیرابیٹاتمہاراامام ہوگا او وہ آل ِمحمدکی جانب صسے تم پر حجت ہوگا۔

بحارالانوارج۵۱ص۱۶۰

 

اوپر دےئے ہوئے نصوص کے بعد ہر بہائی کے لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ حضرت مہدی علیہ السلام پر ایمان لائے کیوں کہ گیارہ اماموں تک کے تو بہائی حضرات یا ان کے بانی بھی معتقد تھے ۔ اور ان کا کہنا ماننا ان پر واجب ہے ۔ اوپر دی نصوص تو صرف نمونے کے طور پر نقل کر دی گئے ہیں ۔ ورنہ خواہش مند حضرات بحارالانوار کے حوالے میں دئیے ہوئے صفحات کے آگے پیچھے صفحات کی روگردانی کریں تو بیشمار ایسی روایتیں ملیں گی جو نہ صرف عقیدیہ میں پختگی کا سبب بنیں گی بلکہ ثواب عظیم بھی حاصل ہوگا۔ یا پھر کتاب وسائل الشیعہ اٹھا کر دیکھیں توایسے بہت سے نصوص ملیں گے ۔

 

بہائی حضرات سے ایک سوال یہ بھی ہے کہ ہم نے تو یہاں کم ازکم چودہ نصوص ہر امام سے نقل کردیں بلکہ تمہارے خود ساختہ مہدی و نبی سے بھی اب تم ایک بھی ہمارے امام سے اپنے خود ساختہ مہدی کے لئے نص پیش کر دو تو ہم ایمان لے آئیں گے۔

نتیجہ: بہائیوں کا اس قسم کے شک و شبہات پر اعتماد طور پر عوام کے سامنے لانا عوام کو اگر منکر نہیں کر دیتا تو کم ازکم شک و شبہ میں تو ڈال ہی دیتا ہے۔ لہٰذا ہمارے ذاکرین اور علماء پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ رسول کے آخری فرزند کے بارے میں روایتیں نقل کریں۔ اور عوام کو ان سے آگاہ کریں۔کیوں کہ خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

مَن مات ولم یعرف امام زمانہ مات میتة الجا ہلیة ۔ بحارالانوارج۲۳

اور جب عوام اصل مہدی علیہ السلام سے آگاہ ہوگی تو پھر جھوٹے مہدی کی طرف جائے گی ہی نہیں ۔ بلکہ روایات کی روشنی میں اگر یہ کہیں تو بات اور صاف ہو جائے گی کہ اگر وقت کے امام کی معرفت حاصل کر لی تو پھر گمراہی کے مواقع کم رہ جاتے ہیں ۔ لہٰذا حضرت امام حسین علیہ السلام نے ایک سوال کے جواب میں کہ معرفت خدا کیا ہے ؟ فرمایا:

وقت کے واجب الاطاعت امام کی معرفت ہی خدا کی معرفت خدا ہے۔

اور ہم والدین کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو ایسے اسکولوں میں دنیا سنوارنے کے لئے نہ ڈالیں جو دشمنان امام زمانہ علیہ السلام کے ہاتھوں میں ہے ۔ کیوں کہ بقول امیرالموٴمنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام بچپنے کی تعلیم پتھر پر کنداں کرنے کے مانند ہے پھر وہ مٹتی نہیں ہے۔ ہم بچے کی دنیا سنوارنے کے لئے تو بہائی اسکولوں میں بھیجیں اور لڑکا آخرت میں آگ میں جلتا ہوا دیکھیں۔ یہ کوئی عقلمندان فیصلہ تو نہیں۔

        شيعہ نظریہ: مقدمہ

        : پہلا شک: مہدی علیہ السلام کا نام

        دوسرا شک حضرت مہدی کے بارے میں نص موجود نہیں

        والدہ کے نام میں شک ڈال کر ولادت سے ہی انکار

        شبہاتِ ولادت

        : دنیا کا امام سے خالی رہنا

        اسلام بزور شمشیر پھیلائیں گے

        حضرت امام مہدی نئی شریعت اور نئی کتاب لے کر آئیں گے



blog comments powered by Disqus
HOME | BACK
©TheBahaiTimes.com