بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰن الرَّحِم
IN THE NAME OF ALLAH, THE MOST BENEFICIENT, THE MOST MERCIFUL

for english version of this website visit WWW.BAHAIAWARENESS.COM | feedback? write to faruqsm@gmail.com 

شيعہ نظریہ: حضرت امام مہدی نئی شریعت اور نئی کتاب لے کر آئیں گے

بہائی حضرات شیعوں کی حدیثوں سے یہ بات ثابت کرنا چا ہتے ہیں کہ جسے ان کے خود ساختہ مہدی نئی شریعت (یعنی شریعت بہائیہ) اور نئی کتاب (کتاب بیان عربی و فارسی)وغیرہ لے کر آئے تھے۔ اس کا سراغ شیعہ احادیث میں ملتا ہے۔ چنانچہ مندرجہ ذیل احادیث کو بہائی حضرات ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

 

پہلی حدیث: حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ قائم آل محمد نئی شریعت اور نئی احکام کے ساتھ ظہور فرمائیں گے جس طرح سے رسول اللہ نے ابتداء اسلام میں لوگوں کو نئی شریعت کی دعوت دی تھی۔

بحار ج ۳۲۳

 

جوابات:

یہ روایت بحارالانوار میں دےئے ہوئے حوالے اور اس کے آگے پیچھے بھی موجود نہیں ۔ لہٰذا اس پر گفتگوسے کچھ حاصل نہیں۔

 

دوسری حدیث: امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں جس وقت قائم ظاہر ہوگا تو وہ احکام قبل کو منسوخ کردیگا۔ جس طرح سے رسول اللہ نے احکام سابقہ کو منسوخ فرمایا تھا اور جدید اسلام کو پھیلایا تھا۔

بحار الانوار ۳۳۰

 

جوابات:

یہ حدیث بھی بحارالانوار کے دےئے ہوئے حوالے اور قبل وبعد بھی موجود نہیں۔

 

ہاں یہ حدیث کتاب کشف الغمہ کے ص ۳۲۰ / پر ملتی تو ہے لیکن اس میں کہیں شریعت ، احکام کے الفاظ نہیں ہیں ۔ بلکہ صرف کتاب جدید اور امر جدید کے الفاظ ہیں۔

 

ہم بھی اس کے قائل ہیں کہ مسلمان اسلام حقیقی سے اس قدر بیگانہ ہوچکے ہوں گے کہ اسلام حضرت کی طرف دعوت دینا امر جدید معلوم ہوگا۔ جیسے ایام جاہلیت میں لوگ ملت ابراہیمیہ سے بہت دور ہو گئے تھے۔

 

یہ بات کسی نئی شریعت کے لانے کے ضمن میں نہیں کہی گئی ہے بلکہ لوگوں کی جہالت کی بناء پریہی دین اسلام ان کو نیا دین معلوم ہوگا۔اوریہ صرف ظہور سے مخصوص نہیں بلکہ آج بھی جب ہم اپنے بزرگوں سے کوئی ایسی چیز شرع و شریعت کی بتاتے ہیں جو انھیں نہیں معلوم ہوتی تو وہ یہی کہتے ہیں کہ کونسا نیا مذہب لے کر آئے ہو۔

 

لیکن بحرحال یہ حدیث کسی بھی طریقے سے مرزاعلی محمد باب ، مرزا حسین علی اور بہائی مذہب کے مفاد

کے لئے یا پیشنگوئی کے طور پر نہیں بیان کی گئی ہے ۔بلکہ اگر بہائی حضرات اس حدیث کو اپنے لئے منطبق کریں تو شاید یہ ان سب سے بڑی بھول ہوگئی۔

 

تیسری حدیث:اگر یہ لوگ جان لیں کہ قائم ظہور فرمانے کے بعد کیا کرے گا تو لوگ تمنا کرتے کہ کاش ہم اس کو نہ دیکھیں کیوں کہ شریعت جدیداور حکم جدید کتاب جدید اور حکم جدید کے ساتھ ظاہر ہوگا اور یہ بات لوگوں کو گراں گزرے گی

مجمع النورین

 

جوابات:

اس قسم کی کوئی روایت نہ ہی مجمع النورین میں موجود ہے اور نہ ہی بحارالانوار میں موجود ہے۔

 

ان تمام حدیثوں کے بارے میں ہمارا دعویٰ ہے کہ ان میں شریعت کا لفظ صراحةً موجود نہیں ۔ اور کیونکر موجود ہو سکتا ہے جبکہ سابق میں ہم بکثرت حوالہ دے چکے ہیں کہ امام ز مانہ علیہ السلام کتاب و سنت رسول اللہ پر عمل کریں گے۔

 

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے کسی سے دریافت کیا کہ مولیٰ کیا امام زمانہ علیہ السلام کے لئے وحی ہوگی فرمایا ۔ رسول اللہ والی وحی نہیں ہوگی وہ رسول کے انتقال کے بعد بند ہو گئی ہاں مادر موسیٰ و جناب مریم والی وحی ہو گی اب تو بہائی حضرات یہ نہیں کہہ سکتے کہ قائم نئی شریعت نئی کتاب لے کر آئے گا جب وحی کا راستہ ہی بند ہو گیا تو کیسے شریعت اور کیسے کتاب لیکر آ ئیں گے ۔ لہٰذا قائم ہی نہیں بلکہ کوئی اور بھی اگر اس کا دعویٰ کرے جیسے مرزا غلام احمد قادیانی ، مرزا علی محمد ، مرزا حسین علی تو پھر وہ اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہے۔

 

ہماری طرف سے بہائیوں کو یہ کھلا چیلنج ہے کہ ایک حدیث بھی ہماری معتبر کتاب سے بتا دیں جس میں شریعت جدید یا کتاب جدید کی بات کی گئی ہو۔ اور وہ ایسا نہیں کر سکتے۔ بلکہ اس کے خلاف بہت ساری حدیثیں ملتی ہیں جن میں کچھ یہاں نقل کی جارہی ہیں۔

 

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ قائم قیام فرمائیں گے تو ان لوگوں کے لئے خیمے نصب

فرمائیں گے جو لوگوں کو مطابق تنزیل قرآن تعلیم دیں گے۔ یہ چیز حفاظ پر نہایت شوق گذرے گی۔

بحارالانوار جلد ۱۳ ص ۱۸۱

 

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے ارشاد فرمایا قائم میری نسل سے ہوگا وہ میرا ہم نام اور ہم کنیت ہوگا۔ اس کے شمائل میرے شمائل اور اس کی سنت میری سنت ہو گی۔ وہ لوگوں کو میری شریعت پر قائم کرے گا ۔ اور لوگوں کو کتاب باری کی طرف دعوت دے گا ۔جس نے اس کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی۔

اسرار العقائدص ۸۳

 

نتیجہ:

بہائی حضرات اس قسم کی گڑھی ہوئی حدیث کو پیش کرکے کوئی بھی حوالہ دے دیتے ہیں تا کہ لوگ اسے مستندمانیں اور مرزا علی محمد کومہدی سمجھ بیٹھیں ۔ جب رسول نے کہہ دیا کہ اس کی اطاعت میری اطاعت ہے ۔ تو کیا رسول اللہ ۱۷/ رکعت نماز کو کم کر کے ۹/ رکعت نماز پر راضی ہو جائیں گے ۔ یا منی جس کو آپ نے نجس بتایا بہائیوں کے پاک کہنے پر راضی ہو جائیں گے ۔ یا روزوں کی تعداد ۲۹ یا ۳۰ کی بجائے ۱۹/ روزوں پر راضی ہوجائیں گے یا وہ آیت قرآن کے ان عدة الشہور عند اللہ اثنا عشر۔ بیشک اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد ۱۲/ کی بجائے ۱۹/ کردی گئی ہو تو خوش ہو جائیں گے ۔ یہ سب من گڑھت حدیثیں اور غلط حوالے لوگوں کو دھوکا دینے کے علاوہ اورکیا ہے۔اورعجیب وغریب بات ہے کہ قرآن نقل کرتا ہے کہ کا فروں کے سامنے جب دین اسلام لیکر جاوٴ تووہ جن وجوہات کی بناء پر اسے ردکرتے ہیں وہ یہ کہ ہمارے آبأواجداد ایسا نہیں کرتے تھے۔ اورامام زمانہ دین اسلام کے (نعوذباِاللہ)خلاف کریں گے کہ ہمارے آباء واجدادایساکرتے تھے فاعقبرویااولی الابصار۔

        شيعہ نظریہ: مقدمہ

        : پہلا شک: مہدی علیہ السلام کا نام

        دوسرا شک حضرت مہدی کے بارے میں نص موجود نہیں

        والدہ کے نام میں شک ڈال کر ولادت سے ہی انکار

        شبہاتِ ولادت

        : دنیا کا امام سے خالی رہنا

        اسلام بزور شمشیر پھیلائیں گے

        حضرت امام مہدی نئی شریعت اور نئی کتاب لے کر آئیں گے



blog comments powered by Disqus
HOME | BACK
©TheBahaiTimes.com