بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰن الرَّحِم
IN THE NAME OF ALLAH, THE MOST BENEFICIENT, THE MOST MERCIFUL

for english version of this website visit WWW.BAHAIAWARENESS.COM | feedback? write to faruqsm@gmail.com 

باب بمقالہ مہدئے اسلام (ع)

محمد رضا اصفہانی

 

پیغمبر اسلام ؐ بمقابلہ باب كے مقالہ كے بعدجناب عمران شیخ نے مجھ سے مہدئے اسلام اور مرزا علی محمد شیرازی باب ، پر ایك مقالہ كی درخواست كی ۔ میری نظر میں یہ ایك بہترین تجویز تھی میرے اس نظریہ كی بنیاد پر كہ بہائی مذہب كی بنیاد باب كے بارہویں امام یا مہدی ہونے پر منحصر ہے۔ اگر كوئی شخض اس كو چلینج كركے یہ ثابت كر لے كہ باب مہدی موعود سے كوئی متابعت نہین ركھتا تو مذہب بہائی زمین دوش ہو جائے۔

 

گزشتہ مقالوں كے جوابات جو دستیاب ہوئے ہیں، اس بات كو واضح كرتے ہیں كہ bahaiawareness.com  كا مطابعہ كرنے والے تحقیق كی طرف مائل ہے۔ یہ جوابات سكون بخش ہیں كیونكہ یہ لوگوں كے ویب سائٹ كی طرف كے رجہان كی عكاسی كرتی ہے۔ ایسے قارئین اس مقالہ سے بیحد خوش ہونگے اس وجہ سے كہ میں نے اس مقالہ میں ہر مقام پر حوالوں كو تحریر كركے اس كو كشادگی عطا كی ہے۔ میں لوگوں كٍے نظریات اور تعمیر تنقید كا منتظر ہوں۔

ایك اہم نكتہ جیسے كہ میں نے پہلے ہی كہا تھا كہ اس دعوے كے باوجود كہ جو بہائی مذہب اسلام كے بعد وجود میں آیا ہے، وہ اپنی بات كو ثابت كرنے كے لئے كوئی حدیث پیش نہیں كرتا۔ اور جب كبھی كبھی وہ اگر اس موضوع پر حدیث بیان بھی كرتے ہیں تو ان كے حوالہ مطابعت نہیں ركھتے۔ اكثر اوقات ایسا ہوتا ہے كہ بہائی مذہب كی كتابوں كا مطالعہ كرتے وقت میں اس امید میں رہتا ہوں كہ وہ انكے تصورات كی تصدیق میں كچھ پیش كرینگے جیسے كہ رسالت كا تسلسل، مہدی كا آنا یا روحانی قیامت جبكہ یہ سب اسلام كے اصول ہیں۔ اسكے برخلاف وہ اپنی بات كو شاعروں كے ذریعہ ثابت كرتے ہیں! یہ طریقہ اس لئے بے سود ہے كہ ہم یہاں اپنے ایمان جائزہ لے رہے ہیں نہ كہ لفظوں كے كھیل میں ملوث ہونے۔

 

بہائیوں كو اس بات كی آگہی ہونا ضروری ہے كہ اسلام میں تحفظ احادیث كا ثقافتی نظام قائم ہے، جس نے اس كی بہترین خدمت كی ہے۔ مسلمان ان احادیثوں كی طرف رجوع كرتے ہیں قرآنی آیات كو سمجھنے كے لئے۔

 

اس بات كے مدنظر، لوگ تعجب كرتے ہیں كہ بہائی حضرات احادیثی راہ كیوں اختیار نہیں كرتے۔ شاید اس كی یہ وجہ ہو كہ بہائی یہ بات بہت اچھی طرح جانتے ہیں كہ وہ اس طرح اپنے كسی بھی نظریہ كو ثابت نہیں كر سكتے اور نہ ہی كر پائنگے۔ اسی لئے قرآنی آیات كی تفسیر جاننے كے لئے وہ اپنی ہی تفاسیر پر انحصار كرتے ہیں جبكہ رسول خدا ؐ نے اس بات كی سختی سے ممانعت كیا ہے۔ میرے مسلمان بھائیوں كو آگاہ كیا جانا چاہئے كہ جب بھی وہ بہائی تفاسیر كا مطالیہ كریں تو اس بات كا خیال ركھے كہ انكے دئے ہوئے حوالوں كو اچھی طرح جانچ لیں تاكہ وہ اس آیت كے ذیل میں رسول خداؐ اور ائمہؑ كے ارشادات سے بھی واقف ہوں۔

 

اور جیسا كہ مہدی كے تعلق سے جو اسلام نے بیان كیا ہے اور مرزا علی محمد شیرازی كے درمیان كوئی موازنہ نہیں ہے۔ میرے مطالعہ سے یہ بات واضح ہے كہ احادیث رسولؐ و ائمہؑ كی پیشینگوئی میں كوئی ایك ایسا عنصر نہیں ہے جس میں باب كو ڈھالا جا سكے۔ قرآن كریم كی اس آیت سے میری بیحد خوصلہ افزائی ہوئی ہے كہ جس میں اللہ تبارك وتعالی مخالفین (مسلمان،دہریہ)میں فرق كی وضاحت كرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے۔

 

مَثَلُ الْفَرِيقَيْنِ كَالأَعْمَى وَالأَصَمِّ وَالْبَصِيرِ وَالسَّمِيعِ هَلْ يَسْتَوِيَانِ مَثَلاً أَفَلاَ تَذَكَّرُونَ

 

"یہ دو اقسام (مردوں کی) كا آپس میں موازنہاندھے اور بہرےسے كر سكتے ہے، اور وہ لوگ جو اچھی طرح دیکھتے ہیں اور اچھی طرح سے سن سکتے ہیں کیا وہ برابر ہے جب انكا موازہ كیا جائے تم بھی تم توجہ نہیں كرتے؟" (ہود 24)

بیشك قرآن رہنمائی چاہنے والوں كے لئے رہنما ہے ۔ اس آیت كی تلاوت كے ذریعہ میں بیحد خوشوع و خضوع سے اللہ كی بارگاہ میں دعا گوہوں كہ وہ سبھی كو حق كی طرف رہنمائی كرے اور ہماری مدد كرے ایسی پریشانیوں كو عبور كرنے میں جو رہنمائی حاصل كرنے كے راستہ میں جائل ہوتی ہیں۔ میں رسول خداؐ اور ائمہ معصومینؑ سے بھی مدد و رحمت كا طالب ہوں كہ وہ ہمارے لئی وصیلہ بنے ان كوتاہیوں كی معافی حاصل كرنے میں اور قیامت كے دن ہماری سفارش كرے۔

 

مہدی كے بارے میں پیشن گوئیاں

یہ مقالہ اسلامی مہدی اور باب جو مہدی ہونے كا دعوی كرتا ہے كے درمیان موازنہ كی سیریز كا ایك حصہ ہے ۔ اس سیریز كا مقصد یہ ثابت كرنا ہے كہ باب مہدی كے بارے میں اسلامی جو پیشن گوئیاں وارد ہوئی ہے اس میں سے كسی كو بھی پورا نہیں كر پیا ہے۔ اسكے برعكس باب كے خلاف زبردیت ثبوت موجود ہے۔ ہر حصہ میں آپ باب كے خلاف 100 احادیث سے زیادہ پائیگے۔

 

مرزا علی محمد شیرازی باب

محمد این الحسن اسلامی مہدی

جیسے كہ بتایا جا چكا ہے كہ اماموں كی تعداد بارہ ہے اور جسے خود باب نے انكے ناموں كے ساتھ تسلیم كیا ہے ، پھر باب كا مہدی (بارہویں امام) ہونے كا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ؟ شاید بہائی حضرات ہی اسكا جواب دے سكے۔

 

بہائیوں نے نہ صرف بارہویں امام كا عہدہ غضب كیا ہے بلكہ انكے القاب كو بھی غضب كیا ہے۔قارئین حضرات تفسیر كوثر، دیلولس صباح اور صحیفہٴ ادلیہ كا مطالعہ كر سكتے ہیں۔ ہر كتاب میں باب نے امام كے نام اور القاب كو اپنے لئے استعمال كئے ہیں۔ بہائیوں نے غلط طریقہ سے ان القاب كو باب اور بہاؤاللہ كے لئے استعمال كئے ہیں۔

رسول خدا ؐ سے منقول 271 احادیث میں وارد ہوا ہے كہ : اسلام اس وقت تك مكمل نہ ہوگا جب تك میرے بعد میرے 12جانشین نہ آجائے جو سب كے سب قریش سے ہونگے۔

(قریش رسول خدا ؐ كا قبیلہ ہے۔ اپنے جانشینوں كو قریش سے محدود كرنے سے رسول خداؐ نے یہ اشارہ كیا ہے كہ انكے جانشین عرب ہونگے، نہ كہ فارس سے یا كسی اور خاندان سے۔)

قارئین كے مفاد كے لئے كچھ حوالہ نیچے بیان كئے جا رہے ہیں:

1- صحیح بخاری ج 4 ص 175 دہلی؁1355

2- صحیح ترمذی ج 2 ص 45 دہلی؁1342

3- صحیح مسلم ج 2 ص 191 مصر 1348

4- صحیح ابی داؤد ج 2 كتاب المہدی ص 208 مصر

5- تاریخ بغدادی ج 2 ص 126 1349

6- مصند احمد ابن حنبل

ج 5 ص 106 34 احادیث

ج 5 ص 76 1 حدیث

ج 5 ص 78 2 احادیث

ج 5 ص 79 1 حدیث

ج 5 ص 90 3 احادیث

ج 5 ص 92 2 احادیث

ج 5 ص 93 3 احادیث

ج 5 ص 94 1حدیث

ج 5 ص 95 2حدیث

ج 5 ص 96 2 احادیث

ج 5 ص 97 2حدیث

ج 5 ص 98 4 احادیث

ج 5 ص 99 3 احادیث

ج 5 ص 100 1 حدیث

ج 5 ص 101 2 احادیث

ج 5 ص 107 2 احادیث

ج 5 ص 108 1 حدیث

7- مستدرك علی الصحیحین ج 3 ص 617 حیدراباد 1336

8- مستدرك علی الصحیحین ج 3 ص 618 حیدراباد 1336

9- تیسیر الوصول الی جامع الاصول ج 2 ص 34 مصر 1346

10- تاریخ الخلفاء ص 8 انڈیا

11- ینابیع المودۃ ص 665

دلچسپ بات تو یہ ہے كہ خود مرزا علی شیرازی بھی 12 امام (جانشین پیابر)كی گواہی دیتے ہوئے ان كو اپنی كتاب صحیفہ ادلیہ میں درج بھی كیا ہے۔

 

مہدی آخری امام ہوگے

یہ مقالہ اسلامی مہدی اور باب جو مہدی ہونے كا دعوی كرتا ہے كے درمیان موازنہ كی سیریز كا ایك حصہ ہے ۔ اس سیریز كا مقصد یہ ثابت كرنا ہے كہ باب مہدی كے بارے میں اسلامی جو پیشن گوئیاں وارد ہوئی ہے اس میں سے كسی كو بھی پورا نہیں كر پیا ہے۔ اسكے برعكس باب كے خلاف زبردیت ثبوت موجود ہے۔ ہر حصہ میں آپ باب كے خلاف 100 احادیث سے زیادہ پائیگے۔

 

مرزا علی محمد شیرازی باب

محمد این الحسن اسلامی مہدی

رسول خدا ؐ نے واضح طور پر بیان كر دیا تھا كہ مہدی كی آمد سے ہی اسلام مكمل ہوگا اور اسی كے ذریعہ اسلام ساری دنیا میں پھیلےگا اور دوسرے تمام ادیان پر غلبہ حاصل كرے گا۔

 

مرزا علی محمد شیرازی كے آنے سے كوئی بھی پیشنگوئی ثابت نہیں ہوئی، جو اسكے اس دعوے كو كہ وہ مہدی موعود ہے رد كرتا ہے۔

رسول خدا ؐ سے منقول احادیث كے مطابق مہدی اماموں میں آخری ہوگے۔ یہ رسول خداؐ كہ 136احادیث میں نقل ہوا ہے۔

قارئین كے مفاد كے لئے كچھ حوالہ نیچے بیان كئے جا رہے ہیں:

1- شرح نہج البلافہ ج 1 ص 206خطبہ 157

2- بیان شافعی ص 506

3- عقد الدرر باب 1 ص 25

4- عقد الدرر باب 7 ص 142

5- عقد الدرر باب 7 ص 145

6- مجمع الزوائد ج 7 ص 316-317

7- مقدمہٴ ابن خلدون باب 53 ص 252

8- الفصول المہمہ حصہ 12 ص 297-298

9- عرف الوردی سیوتی ج 2 ص 61

10- سوائق المحرقہ ابن حجر مكی ص 163 باب 11 حصہ 1

11- تمیز الطیب ص 196 ح 1493

12- كنز الامال ج 14 ص 597 ج 36972

13- البرہان متقی الہندی ص 91 باب 2 ح 7-8

14- فرائد الفوائد الفكر باب 1 ص 3

15- اسد الراغبین ص 145

16- نور الابصار شبلنجی ص 177

17- الامامت والتبصرہ ص 92 ح 71

18- كمال الدین ج 1 باب 22 ص 31

19- اعمالیٴ مفید ص 277 خطبہ 36 ح 8

20- اعمالیٴ طوسی ج 1 ص 63

21- الملاہم - سید ابن طاؤس باب 191 ص 76-95

22- كشف الغمہ ج 3 ص 263

23- اثباۃ الہداۃ شیخ حر آملی ج 3 ص 596

24- حلیۃ الابرار ج 1 باب 43 ص 450

25- غایۃ المرام باب 161 ص 700 ح 105

26- بحار الانوار ج 32 باب 8 ص 298 ح 257

27- منتخبۃ الاثر باب 1 ص 152 ح 32

 

مہدی كی پیدائش

یہ مقالہ اسلامی مہدی اور باب جو مہدی ہونے كا دعوی كرتا ہے كے درمیان موازنہ كی سیریز كا ایك حصہ ہے ۔ اس سیریز كا مقصد یہ ثابت كرنا ہے كہ باب مہدی كے بارے میں اسلامی جو پیشن گوئیاں وارد ہوئی ہے اس میں سے كسی كو بھی پورا نہیں كر پیا ہے۔ اسكے برعكس باب كے خلاف زبردیت ثبوت موجود ہے۔ ہر حصہ میں آپ باب كے خلاف 100 احادیث سے زیادہ پائیگے۔

 

مرزا علی محمد شیرازی باب

محمد این الحسن اسلامی مہدی

باب كی پیدائش كو صرف بہائی تاریخدانوں نے ہی نقل كیا ہے۔

 

جبكہ مہدی كی پیدائش كا ذكر دونوں شیعہ اور سنی تاریخدانوں نے نقل كیا ہے۔

 

جس طرح ساتھ والے كالم میں درج كیا گیا ہے كہ مہدی باب كے پیدا ہونے سے 1000سال قبل پیدا ہو چكے ہیں۔ پھر باب كا مہدی موعود ہونے كا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

 

اسلامی مہدی نے پیدا ہوتے ہی سجدہ میں جاكر سورہٴ بنی اسرائیل كی 81 ویں آیا كی تلاوت كی

 

وَقُلْ جَاء الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا

 

اوركہو: حق (اب) آگیا، اور باطل نابود ہوگیا، كیونكہ باطل كو مٹنا ہی تھا۔

 

ان كے والد بزرگوار نے انكے بیٹے مہدی كا اپنے معتمد اصحاب كو تعرف بھی كروایا اور انہیں اپنے جانشین كے طور پر پہچنوایا۔ مزرا علی محمد باب كے والد نے ایسا كچھ بھی نہ كیا۔ شاید وہ اس بات سے واقف تھے كہ انكا بیٹا مرزا ہے سید نہیں۔

 

باب خود اپنی كتاب تفسیر سورہٴ كوثر میں اس بات كو قبول كرتا ہے كہ اسنے ایك شخص كو خانہٴ كعبہ میں كھڑا پایا جسے باب نے مہدی جانا اور انكی طرف جانا چاہا۔ جب باب خود كسی دوسرے كو مہدی تصور كرتا ہے، پھر بہائی كیوں اسكے برخلاف دعوی كرتے ہیں؟

صدیوں سے 215 تاریخدانوں نے مہدی كی پیدائش 15 شعبان 255 ہجری میں ہونا درج كیا ہے۔

كچھ تاریخدانوں كے نام نیچے بیان كئے جا رہے ہیں:

1- ابن سباغ مالكی

2- ابن خلكان

3- ابن حجر مكی شافعی

4- قاضی حسین دیار بكری

5- شیخ الجمال الدین ابو الفرج

6- نور الدین عبد الرحمن ابن احمد ابن قوام الدین جامی

7- محمد ابن یوسف شافعی

8- ابو بكر احمد ابن حسین

9- شیخ كمال الدین ابو صائم محمد ابن طلحہ شافعی

10- الحافظ ابو محمد احمد ابن

11- فضل ابن روزبحان

12- ابو محمد عبد اللہ ابن احمد ابن محمد

13- محی الدین ابو عبد اللہ

 

مہدی كا عدل

یہ مقالہ اسلامی مہدی اور باب جو مہدی ہونے كا دعوی كرتا ہے كے درمیان موازنہ كی سیریز كا ایك حصہ ہے ۔ اس سیریز كا مقصد یہ ثابت كرنا ہے كہ باب مہدی كے بارے میں اسلامی جو پیشن گوئیاں وارد ہوئی ہے اس میں سے كسی كو بھی پورا نہیں كر پیا ہے۔ اسكے برعكس باب كے خلاف زبردیت ثبوت موجود ہے۔ ہر حصہ میں آپ باب كے خلاف 100 احادیث سے زیادہ پائیگے۔

 

مرزا علی محمد شیرازی باب

محمد این الحسن اسلامی مہدی

دوسروں كی باتوں كی طرف غور نہ كرتے ہوئے خود قرزا علی محمد شیرازی، باب اپنے پیدائشی جگہ ایران میں بھی عدل و انصاف قائم نہ كرسكا۔ اگر باب كے وقت میں انصاف فائم ہو چكا ہوتا، تو بہائی كیوں ایران میں نا انصافی كا سامنا كرنے كے بعد روتے ہیں۔

 

خود باب نے ایران كی حكومت كے خلاف جنگ كا اعلان كركے ہزاروں معصوم بچوں اور عورتوں كا قتل عام كركے نا انصافی كی ہے۔ عیر بہائی كے قتل كے لئے بہائی نےتشددی وكالت اور كانون بنائے۔ اس بات كی ااطلاع والا اور كوئی نہیں بلكہ مرزا جانی، نقطۃ القاف كے مصنف ہے، جو بہائی كی سب سے پرانی تاریخی كتاب ہے۔

رسول خداؐ نے پیشن گوئی كی تھی كہ مہدی زمین كو عدل و انصاف سے بھر دیگا جس طرح وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی۔ یہ 130 احادیث دونوں شیعہ اور سنی علمائ نےنقل كیاہے ۔

اہم بات یہ ہے كہ انصاف ان كی زندگی میں ہوگا نہ كی ان سے قریب یا بعید مستقبل میں۔

قارئین كے مفاد كے لئے كچھ حوالہ نیچے بیان كئے جا رہے ہیں:

1- مسند احمد ابن حنبل ج 2 ص 37

2- الملاہم ابن المسنوی ص 42

3- البیان شافعی باب 1 ص 505

4- عقد الدرر ص 62 باب 4 حصہ 1

5- فرائد السمتین ج 2 ص 310ح 561

6- مجمع الزوائد ج 2 ص 313

7- میزان الاعتدال ج 3 ص 97

8- الفصول المہمہ حصہ 12 ص 297

9- عرف الوردی سیوطی ج 2 ص 57

10- تفسیر در المنصور سیوطی ج 2 ص 58

11- سوائق المحرقہ ابن حجر مكی ص 166باب 11حصہ 1

12- العقول المختصر ص 5 باب 1 ح 8

13- البرہان متقی ہندی ص 79باب 1 ح 21

14- كنزل الامال ج 14 ص 261 ح 38653

15- فرائد الفوائد الفكر باب 3 ص 7

16- اصف الرغائب ص 148

17- نور الابصار شبلنجی ص 177

18- ینابیع المودۃ باب 85ص 469اور باب 94ص 487

18- الضاء ص 119

20- الاتر الوردی ص 69

21- غقیدہٴ اہل سنت ص 9

22- دلائل الامامہ ص 249

23- غیبت طوسی ص 111

24- الملاہم سید ابن طاؤس باب 23ص 165

25- كشف الغمہ ج 3 ص 261

26- اثبات الہدی شیخ حر عاملی ج 3ص 502باب 32ح 291

27- اثبات الہدی شیخ حر عاملی ج 3 ص 574باب 32حصہ 49ح 726

28- اثبات الہدی شیخ حر عاملی ج 3 ص 575 باب 49 ح 723

29- حلیۃ الابرار ج 2 باب 56 ص 703ح 53

30- حلیۃ الابرار ج 2 باب 56ص 713ح 101

31- غایۃ المرام باب 161ص 692ح 5

32- غایۃ المرام باب 161 ص 700 ح 89

33- غایۃ المرام باب 161 ص 703ح 137

34- بحار الانوار ج51 باب 1 ص 76 ح 23-26

35- بحار الانوار ج 51 ص 81

36- بحار الانوار ج 51 ص 92

37- منتخبۃ الاثر باب 1 حصہ 2 ص 169ح 70

38- منتخبۃ الاثر باب 1 حصہ 2 ص 170 ح 77

 

مہدی كا ظہور

یہ مقالہ اسلامی مہدی اور باب جو مہدی ہونے كا دعوی كرتا ہے كے درمیان موازنہ كی سیریز كا ایك حصہ ہے ۔ اس سیریز كا مقصد یہ ثابت كرنا ہے كہ باب مہدی كے بارے میں اسلامی جو پیشن گوئیاں وارد ہوئی ہے اس میں سے كسی كو بھی پورا نہیں كر پیا ہے۔ اسكے برعكس باب كے خلاف زبردیت ثبوت موجود ہے۔ ہر حصہ میں آپ باب كے خلاف 100 احادیث سے زیادہ پائیگے۔

 

مرزا علی محمد شیرازی باب

محمد این الحسن اسلامی مہدی

روایتوں میں لفظ آیا ہے كی مہدی زظاہر ہوگا غیبت كے بعد اور یہ نہیں كہ مہدی پیدا ہوگا۔ یہ بہائی عقائد كو رد كرتی ہے كہ باب كہدی كا پلٹنا ہے۔

 

مرزا علی محمد شیرازی، باب خود اپنی كتاب تفسیر سورہٴ كوثر میں بارہویں امام كی غیبت كا اعتراف كرتا ہے۔

 

بہائی اس بات پر بحث كرتے ہیں كہ باب كا قید ہونا غیبت كے برابر ہے۔ جبكہ وہ دو جہتوں سےغلطی پر ہے۔ اس كا مطلب تو یہ ہوا كہ جب بھی كوئی مجرم قیدی بنے تو وہ غیبت كے مقام كا اہل قرار دے سكتا ہے۔ اور دوسرے یہ كہ، حدیثوں میں غیبت كا جو مفہوم وارد ہوا ہے وہ ہے یرونہ ولا یعرفنہ لوگ انہیں دیكھیں گے مگر پہچان نہ پائے گے كہ وہ بارہویں امام ہے۔ اس نظریہ كی مثال ہمیں واقعہٴ یوسفؑ میں ملتی ہے جب انكے بھائیوں نے ان سے ملاقات كی جی كہ وہ مصر كے بادشاہ تھے۔ تو انہوں نے اسے دیكھا مگر پہچان نہ پائے كہ یہ وہی یوسف ہے جس كو انہوں نے بچپنے میں مار دینا چاہا تھا۔

 

اسلامی مہدی كی طولانی غیبت ہوگی اور اسكے بعد انكا ظہور ہوگا۔

یہ 91 روایتوں میں دونوں شیعہ اور سنی راویوں سے نقل كی گئی ہے جو آخر میں جاكر جابر ابن عبد اللہ انصاری، علی ابن ابی طالبؑ، ابو عبد اللہ، ابو جعفر، ابن عباس، امام رضا ؑاور دوسرے اصحاب كے جا ملتی ہے۔

قارئین كے مفاد كے لئے كچھ حوالہ نیچے بیان كئے جا رہے ہیں:

1- كمال الدین ج 1باب 25ص 287ح 5

2- كمال الدین ج 2 باب 38ص 394ح 4

3- كمال الدین ج 1 باب 25ص 286ح 3

4- كمال الدین ج 2 باب 35ص 372 ح2

5- كمال الدین ج 1 باب 6ص 145ح 12

6- كمال الدین ج 1 ص 51

7- فرائد السمتین ج 2 ص 335ح 574

8- اثبات الہدی ج 3 ص 461باب 32حصہ 5 ح 587

9- اثبات الہدی ج 3 ص 460 باب 32 حصہ 5 ح 503

10- اثبات الہدی ج 2 ص 574باب 32 حصہ 47ح 710

11- اثبات الہدی ج 1 ص 550 باب 9 حصہ 18 ح 378

12- بحار الانوار ج 51 ص 68 باب 1 ح 257

13- بحار الانوار ج 52ص 90باب 20 ح 1

14- بحار الانوار ج 13ص 36باب 2 ح 17

15- بحار الانوار ج 49ص 237 باب 17 ح 6

16- بحار الانوار ج 51 ص 156باب 8 ح 4

17- بحار الانوار ج 53 ص 65 باب 29 ح 56

18- بحار الانوار ج 36ص 309 باب 41 ح 148

19- بحار الانوار ج 51 ص 71-72 باب 1 ح 13، 16

20- غایۃ المرام باب 141 ص 695 ح 30

21- ینابیع المودۃ ص 488 باب 94

22- منتخبۃ الاثر باب 25 حصہ 2 ص 249 ح 8

اوپر كی باتوں كے علاوہ، مرزا ہلی محمد تعائی خود اسلامی مہدی كی غیبت كو اپنی كتاب صحیفہٴ ادلیاہ تسلیم كرتے ہیں ۔

 

مہدی كی طولانی عمر

یہ مقالہ اسلامی مہدی اور باب جو مہدی ہونے كا دعوی كرتا ہے كے درمیان موازنہ كی سیریز كا ایك حصہ ہے ۔ اس سیریز كا مقصد یہ ثابت كرنا ہے كہ باب مہدی كے بارے میں اسلامی جو پیشن گوئیاں وارد ہوئی ہے اس میں سے كسی كو بھی پورا نہیں كر پیا ہے۔ اسكے برعكس باب كے خلاف زبردیت ثبوت موجود ہے۔ ہر حصہ میں آپ باب كے خلاف 100 احادیث سے زیادہ پائیگے۔

مرزا علی محمد شیرازی باب

محمد این الحسن اسلامی مہدی

مرزا علی محمد شیرازی۔ باب نےطولانی عمر نہ پائی۔ در اصل ان كی عمر اوسطا ایك آدمی كی عمر سے بھی كم تھی۔ اس كی پیدائش 1819 میں ہوئی اور 1850 میں قتل كر دیت گیا جس كی وجہ سے اسكی عمر صرف 30 سال كی رہی۔ یہ حضرت نوحؑ كی مثال سے كوسوں دور ہے جنہوں نے 900 سال لوگوں كے درمیان زندگی بسر كی۔ اگر مہدی كی عمر 32 سالہ ہونا تھی تو حضرت نوحؑ كی مثال دینے كی كیا ضرورت تھی۔ بہائیوں كو اس سوال كا جواب صرور دینا چاہئے۔

 

در اصل باب كی عمر اتنی كم تھی كہ وہ اپنی كتاب البیان اپنی زندگی میں مكمل نہ كر پایا اور اس نے وصیت كی كہ اسكا جانشین مرزا یہيی نوری اس كو مكمل كرے۔ اس مختصر سی زندگی میں اسكا مذہب، عقیدہٴ باب ساری دنیا كی بات دركنار ،تمام ایران میں بھی نہ پھیل پایا

 

اس كوضوع پر شیعہ اور سنی تاریخدانوں كے جو نقل كیا ہے وہ 318 احادیث سے زائد ہیں۔ یہ كہنے كے بعد یہ كہنا بہت ضروری ہے كہ اسلامی مہدی ہی صرف تاریخ وہ شخصیت نہیں ہے جنہیں طولانی عمر مرحمت ہوئی ہو۔ اصل میں تاریخ میں ایسی دوسری كئی مثالین موجودہیں جنہیں طولانی عمر مرحمت ہوئی ہیں۔ مسلمان برادران كے لئے یہاں صرف ایك مثال پیش كی جارہے ہے۔

 

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمْسِينَ عَامًا

 

اور بیشك ہم نے نوحؑ كو انكی قوم كی طرق بھیجا، پھر وہ اپنی قوم میں ہزار میں پچاس سال كم رہے (عنكبوت 14

اس آیت كے مطابق حضرت نوحؑ نے لوگوں كے درمیان 950 سال رہے۔ اس آیت كے ذیل میں احادیث واضح طور پر یہ بیان كرتی ہے كہ حضرت نوحؑ كی كل عمر 2500 سال سیے زائد تھی۔ اصل میں امام صادقؑ كی حدیث كے مطابق اللہ نے حضرت نوحؑ كو طولانی عمر اسی لئے عطا كی تاكہ وہ امام مہدیؑ كی طولانی عمر كے لئے حتمی ثبوت بنے۔

كچھ تاریخدانوں جنہوں نے امام مہدی كی طولانی عمر كا تذكرہ كیا ہے وہ نیچے بیان كئے جا رہے ہیں:

1- منتخبۃ الاثر باب 30 حصہ 20 ص 276

2- كشف المحجہ باب 79

3- تذكرت الخواص سبت ابن جوزی ص 377

4- البیان فی اخبار صاحب الزمان باب 25

5- المعمروں (كل كتاب اسی موضوع پر)

6- تفسیر الجواہر ج 17 ص 224

7- اظہار الحق ج 2 ص 124

8- مہدیٴ موعود علی روانی ص 585

9- الامام المہدی من المحد الی الظہور ص 353

10- تاریخ مروج الذہب مسعودی ج 1،2

11- اثبات الوصیت مسعودی

12- داد گستر جہاں ص 302

13- كمال الدین ج 2 باب 52 ص 549

14- چہرہٴ درخشان امام زمانہؑ ص 268

15- غیبت طوسی ص 81

16- یوم الخلاص ص 164

17- كشف الغمہ ج 3 ص 333

18- بحار الانوار ج 51 ص 263

 

مہدی كی ونشاولی

یہ مقالہ اسلامی مہدی اور باب جو مہدی ہونے كا دعوی كرتا ہے كے درمیان موازنہ كی سیریز كا ایك حصہ ہے ۔ اس سیریز كا مقصد یہ ثابت كرنا ہے كہ باب مہدی كے بارے میں اسلامی جو پیشن گوئیاں وارد ہوئی ہے اس میں سے كسی كو بھی پورا نہیں كر پیا ہے۔ اسكے برعكس باب كے خلاف زبردیت ثبوت موجود ہے۔ ہر حصہ میں آپ باب كے خلاف 100 احادیث سے زیادہ پائیگے۔

 

مرزا علی محمد شیرازی باب

محمد این الحسن اسلامی مہدی

اس كا نام رسول اللہ ؐ كے نام پر نہ تھا۔ رسول اللہؐ كا نام محمد تھا نہ كہ علی محمد

 

اس كی كنیت رسول اللہؐ كی كنیت نہ تھی۔ در اصل اس كی كمیت كا كوئی پتہ موجود نہیں ہے۔

 

وہ مرزا تھا سید نہیں ۔ سید اسے كہا جاتا ہے جس كے والد كی ونشاولی رسول خداؐ سے ملتی ہو۔ مرزا لقب اس شخص كو دیا جاتا ہے جس كی ماں رسول اللہؐ كی اولاد سےہو نہ كی باپ۔ جبكہ ایران میں ایك طریقہ چلا آرہا ہے كی كسی بھی محترم شحص كو وہ سید كہتے ہیں جس كی بنا پر باب كو سید كا لقب ملا۔ دراصل باب كو جو سید كا لقب ملا وہ وہاں كی ثقافت كے طور پر ملا نہ كی اس كی پیدائش كی بنا پر۔

 

مرزا علی محمد اہلبیت رسول میں سے نہیں ہے ۔ اہلبیت ایك مخصوص اصطلاح ہے جو رسول كے گھرانے كو دیا گیا ہے۔ جبكہ كو لوگ رسول كی آل (سید جس كی وضاحت اوپر كی جا چكی ہے)سے ہیں وہ بھی اہلبیت مین شامل نہیں ہے۔

 

اس موضوع پر شیعہ اور سنی راویان نے جو نقل كیا ہے وہ 399 احادیث سے زائد ہیں۔

قارئین كے مفاد كے لئے یہاں كچھ كتابوں كا ذكر كیا جا رہا ہیں:

1- ینابیع المودۃ ص 433

2- نور الابصار شبلنجی ص 134

3- منتخب كنز الامال ج 6 ص 32

4- البرحان فی علامات مہدیٴ آخر الزمان باب 2

5- مسند احمد ابن حنبل ج 2 ص 133

6- سنن ابی داؤد ج 6 ص 94 ح 4242

7- معالم سنن ج 4 ص 336

8- مستدرك صحیحین حاكم نیشاپوری ج 4 ص 466

9- حلیۃ الاولیاء ج 5 ص 159

10- عقد الدرر باب 4 ج 1 ص 4905

11- جمع الجوامع ج 1 ص 545

12- البرحان متقیٴ ہندی ص 103 باب 4 ح 3

13- كنز الامال ج 14 ص 269 ح 37675

14- تذكرہ قطبی ج 2 ص 800

15- عرف الوردی سیوطی ج 2 ص 800

16- در المنصور سیوطی ج 2 ص 65

17- صوائق المحرقہ ابن حجر مكی ص 163 باب 11

18- منتخبت الاثر باب 2 ص 442

19- الملاہم سید ابن طاؤس باب 9 ص 22-23

20- بشارت المصطفی ص 250

21- صراط المستقیم ج 2 ص 242 باب 11

22- اثبات الہدی ج 3 ص 607 باب 32 ح 120

23- غایت المرام ص 697 باب 141 ح 54

24- بحار الانوار ج 51 ص 365

25- مناقب شہر آشوب ج 1 ص 292

 

        شيعہ نظریہ: مقدمہ

        باب بمقالہ مہدئے اسلام (ع)

        : پہلا شک: مہدی علیہ السلام کا نام

        دوسرا شک حضرت مہدی کے بارے میں نص موجود نہیں

        والدہ کے نام میں شک ڈال کر ولادت سے ہی انکار

        شبہاتِ ولادت

        : دنیا کا امام سے خالی رہنا

        اسلام بزور شمشیر پھیلائیں گے

        حضرت امام مہدی نئی شریعت اور نئی کتاب لے کر آئیں گے



blog comments powered by Disqus
HOME | BACK
©TheBahaiTimes.com