بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰن الرَّحِم
IN THE NAME OF ALLAH, THE MOST BENEFICIENT, THE MOST MERCIFUL

for english version of this website visit WWW.BAHAIAWARENESS.COM | feedback? write to faruqsm@gmail.com 

عقیدہ معاد

قارئین واقعی خود تعّجب کریں گے کہ آخر اس ویب سائٹ پر معاد کا سکشن لانے کی کیوں ضرورت محسوس ہوئی۔ جس کی اصل وجہ یہ ہے کہ بہائی حضرات جہاں ان چیزوں کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں وہیں عقیدہ قیامت اور معاد کو بھی حقیقت اور واقعیت سے بہت دور لیجاکر چھوڑ آتے ہیں جو کوئی بھی صحیح الدماغ شخص قبول نہیں کرے گا ۔

 

عقیدہ معاد و قیامت یہ وہ عقیدہ ہے جو ہر مذہب و ملت میں بہت ہی تھوڑے سے فرق کے ساتھ پایا جاتا ہے کہ انسان اس دنیا کے بعد سزا و جزاء کا مستحق قرار پائے اور ظاھری دنیا میں اُسے اُس کے اعمال کی صحیح طور پر سزا وجزاء نہیں دی جا سکتی ۔ جس کی مثال ہمیں روزانہ دیکھنے کو ملتی ہیں ۔ مثال کے طور پر ملکوں کو تباہ کرنے والے بادشاہ کو قید کرکے پھانسی پر لٹکا دینا کیا صحیح معنوں میں اسکی مکمل سزا ہے ۔ یا بس کو ایٹم بم سے اڑاکر بہت سارے مسافروں کو ایک لمحہ میں موت کے گھاٹ اتار دینا اور پھر اسکو پکڑ کر پھانسی کے پھندے پر چڑھا دینا کیا اُسکی واقعی سزا ہے ۔ کوئی بھی عقلمند اس کو قبول کرنے سے انکار کرے گا۔

 

آیات و روایات میں یہ بات بالکل صاف طور سے واضح کر دی گئی ہے کہ جس طریقے سے عقیدہ توحید انسان کی فطرت میں ودیعت کر دی گئی ہے ۔ اُسی طرح عقیدہ معاد بھی انسان کی فطرت میں پایا جاتا ہے بلکہ بعض آیتوں میں تو دونوں ہی چیزیں ایک ساتھ پائی جاتی ہیں ۔ نمونے کے طور پر ذیل میں چند آیتوں کا ترجمہ پیش کیا جارہا ہے۔

سورہ مومنون آیة ۱۱۵

أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لاَ تُرْجَعُونَ

کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ میں نے تم کو بے کار پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم کو میری طرف پلٹنا ہے۔آیت جہاں خلافتِ خدا وندمتعال کا ذکر کر رہی ہے وہی خلقت انسان کو بے معنی نہ بتاتے ہوئے پروردگارِ عالم کی طرف پلٹنا یاد دلاتی ہے ۔ اور آیت کا انداز یہ بتاتا ہے کہ کوئی بھی مذہب و ملت سے تعلق رکھنے والا ذرہ برابر بھی اگر اپنی فطرت کی طرف متوجہ ہوگا تو اس سوال کو سمجھے گا اور اپنی دنیا و آخر ت کو سنوار لے گا۔

 

سورہ ص آیت ۲۷

وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلاً ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ النَّارِ

اور کیا ہم نے زمین و آسمان اور اس میں موجود چیزوں کوبیکارپیدا کیا ہے یہ کافروں کا گمان ہے؟واعا ؟؟ہو آتش جہنم میں موجود کافروں پراس آیت میں بھی خلافتِ خالق کائنات کا ذکر کرتے ہوئے انسان کو متوجہ ہونے کی دعوت دی گئی ہے اور پھر اگر متوجہ نہ ہوئے تو انھیں جھٹلانے والے، انکار کرنے والے قرار دیا گیا ہے اور انکا مقام بھی بتا دیا گیا ہے کہ انکی اصل سزا تو جہنم کی آگ ہی میں ملے گی۔

 

لہٰذا یہ بات واضح ہے کہ جیسے خالق کائنات کی توصید انسانی فطرت میں ڈالی گئی ہے ویسے ہی عقیدہ قیامت بھی ۔ لہٰذا جو خالق کو مانے گا اُسے معاد پر عقیدہ رکھنا لازم ہے۔ اورجو خالق کو ہی نہیں مانے گا تو پھر عقیدہ قیامت اسکے لئے نفع بخش نہ ہوگی اور وہ اس سے بھی انکر کرے گا۔

 

علت انکار عقیدہ معاد

معاد اور قیامت یعنی روز سزا و جزاء کا انکار کرنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ انسان کی فطرت پر گناھیں کرتے کرتے پردہ پڑ جاتے ہیں اور وہ اس حقیقت کا انکار کر بیٹھتا ہے کہ کیا مجھے بھی کہیں حساب و کتاب دینا ہے لہٰذا وہ زمین پر فساد برپا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا ۔ اپنے آپ کو معبود حقیقی کے مخالف میں لاکر کھڑا کر دیتا ہے اور معبود حقیقی بھی اُسے ادنیٰ چیز سے ذلیل ورسوا کرتا ہے ذیل میں دو مثالیں پیش خدمت ہیں ۔

 

فرعون: جس نے خدائی کا دعویٰ کیا تھا اور ظلم و جور میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رکھی تھی بلکہ دریا پر اپنی حکومت ہونے کادعویٰ بھی کرتا تھا ۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے دریا میں غرق کرکے اُسے ذلیل و رسوا کیا۔

 

ابرہہ: خانہ خدا کو مسمار کرنے کا (نعوذباللہ) عظم و ارادہ رکھتا تھا ۔ خدا وند عالم نے سب سے بڑے جنگلی جانوروں پر مشتمل ہاتھیوں کی فوج کو ابابیل کے منہ میں پتھر دیکر ہلاک کیا۔ حالانکہ یہ ہاتھی بھی اتنی معرفت رکھتے تھے کہ جب جناب عبدالمطلب ابرہہ کے دربار میں اپنے اونٹوں کا سوال کرنے کیلئے حاضر ہوئے اور ان ہاتھیوں کو یہ تربیت دی گئی تھی کہ جیسے ہی جناب عبدالمطلب آئیں ان پر حملہ کردیں اور انہیں مسمار کردیں۔ لیکن صاحب معرفت ہاتھیوں نے اپنے سر انکے قدموں پر رگڑنا شروع کردیا معلوم یہ ہوا کہ ہاتھی اتنی عقل رکھتے ہیں کہ نہ خانہ خدا کو نقصان پہنچایا نہ وارث خانہ کو بلکہ خود جان دینا گوارہ سمجھا لیکن لوگوں کو قرآن کی اس آیت کی طرف پلٹا دیا۔

الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلاً
وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ

سورہ ملک ایت نمبر ۲

اللہ وہ ہے جس نے موت کو بھی خلق کیا اور حیوات کوبھی․․گویا فطرت سے پردے ہٹے ہوتے ہیں تو جنگلی جانور بھی وارث اھلبیت کے پیر پر آکر اپنا سر رکھدیتا ہے۔ اور فطرت پر پردے پڑے ہوتے ہیں تو انسان بھی اللہ رسول روز قیامت اوراھلبیت کا مخالف ہو جا تا ہے ۔

 

ظلم ایک ایسی گناہ ہے جسکی تربیت تکبر نے کی ہوتی ہے اور تکبر کاپیش خیمہ ہی یہی ہے مجھ سے بہتر کوئی نہیں ۔ لہٰذا وہ اصطلاحات میں الجھ کر رہ جاتا ہے اور حقیقت کا انکار کر بیٹھتا ہے ۔ جسکی چھوٹی سی سرکش بیٹے میں ملتی ہے جو اپنے دنیاوی والدین جن کی خدمات اسنے خود اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے اس کا خیال نہ کرتے ہوئے بدتمیزی ، بے رخی پیش آتا ہے۔تو پھر خالق کائنات تو بحرحال ظاہری آنکھوں سے مشادہ کے قابل نہیں اسے اور اس کے پاس واپس جانے کا کہاں اقرار کرے گا۔بس ایسا ہی کچھ حال بہائی حضرات کا بھی ہے اور چونکہ یہ فطرت انسانی ہے کہ اسے سوال و جواب ، مناظرہ وغیرہ کی باتیں زیادہ یاد رہتی ہیں ۔ اور سمجھ میں بھی آتی ہیں ۔ اور یہ طریقہ خداوندقدوس نے بھی اختیار کیا ہے لہٰذا ہم بھی عقیدہ بہائیت کے معادہ کے نظریہ کو سوال و جواب کی صورت میں پیش کرکے باتوں کو آیات و روایات کے ذریعے واضح کر کے خشنودی خدا وند آئمہ معصومین حاصل کرنے کی کوشش کریں ۔

 

ذیل میں زیر بحث آیات و روایات حق و باطل کے درمیانی فرق کا ایک نمونہ ہے ۔ جسطرح برتن میں پکے ہوئے ہر چاول کو دبا کر یہ یقین کر لینا ضروری نہیں ہوتا کہ چاول گل گیا ہے یا نہیں اسی طرح ہر بحث میں کود کر اسکا تجزیہ کرنا لازم نہیں بلکہ صاحبان عقل و فہم کے درمیان صرف بہائیوں کا طریقہ کار واضح کرنا مقصد ہے۔ اسی میزان پر دوسرے مباحث کو بھی پرکھ لیں۔

        عقیدہ معاد

        سوال : جدید کے مسلمان کا قیامت کے بارے میں عقیدہ

        سوال: بعثت انبیاء قیامت ہے؟

        سوال: حضرت امیر الموٴمنین کی حدیث

        سوال: ظہور قائم آل محمد ہی قیامت ہے؟

        سوال: عظیم نبی کا آنا قیامت کبریٰ ہیں؟

        سوال: قیامت کے بارے میں سورہ حج کی آیت

        سوال: ظہور قائم آل محمد کو قیامت ہیں؟

        سوال: قیامت کی حقیقت کا متشابہ الفاظ میں بیان ہونا

        سوال: قیامت کے بارے میں سورہ : رحمٰن کی آیت



blog comments powered by Disqus
HOME | BACK
©TheBahaiTimes.com