بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰن الرَّحِم
IN THE NAME OF ALLAH, THE MOST BENEFICIENT, THE MOST MERCIFUL

for english version of this website visit WWW.BAHAIAWARENESS.COM | feedback? write to faruqsm@gmail.com 

سوال : جدید کے مسلمان کا قیامت کے بارے میں عقیدہ

بہائی حضرات کا یہ کہنا ہے کہ مندرجہ ذیل آیات کے مطابق دور جدید کا مسلمان قیامت کے بارے میں وہ عقیدہ رکھتا ہی نہیں جو دور قدیم کا عقیدہ تھا ۔ اور آیات قیامت متشابہات میں سے ہیں ان کی تفسیر و تاویل سوائے خدا کے کوئی اور جانتا ہی نہیں ۔

 

سورہ اعراف آیت ۵۲: وَلَقَدْ جِئْنٰھُمْ بِکِتٰبٍ فَصَّلْنٰہُ عَلیٰ عِلْمٍ ھًُیوَّرَحْمَةًلِّقَوْمٍ یُّوٴْ مِنُوْنَ

ترجمہ: یعنی ہم انکے پاس ایسی کتاب لے کر آئے ہیں جس کی تفسیر ہم نے عالمانہ طور پر کی ہے جس میں اہلِ علم کے لئے ہدایت و رحمت ہے ۔ کیا یہ لوگ اس کتاب کی تاویل کا انتظار کرتے ہیں ۔ اور جس دن اس کتاب کی (آیات و متشابہات) کی تویل آئے گی تو جو لوگ اس حقیقت کوبھول چکے ہوں گے وہ کہیں گے کہ ہمارے رسول حق لے کر آئے تھے۔

 

سورہ نس آیت ۳۹: بَلْ کَذَّ بُوْ ابِمَا لَمْ یُحِیْطُوْبِعِلْمِہ وَلَمَّایَاتِھِمْتَاوِیْلُہ کَذٰلِکَ کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْقَبْلِہِمْ فَانْظُرْ کَیْفَکَانَ عَاقِبَة الظّٰلِمِیْنَ

تر جمہ: یعنی اُنھوں نے آیت قیامت اور احیائے ثانی کے واقعہ کو اس لئے جھٹلایاکہ اسکو انھوں نے سمجھانہیں۔ حالانکہ انکا حقیقی مطلب ابھی بیان ہی نہیں کیا گیا۔

 

جوابات:

بہائیوں کا یہ ہمیشہ سے طریقہ کار رہا ہے کہ وہ کسی بھی آیت کا سیاق وسباق ہی بالکل بدل دیتے ہیں پہلی آیت میں بھی بھول جانے والوں کا اسکے بعد یہ فقرہ بھی موجود ہے ۔فَھَلْ لَّنَا مِنْ شُفَعَآءَ فَیَشْعُوْا لَنَا اَوْنُرَ دُّ فَنَعْمَلْ غَیْیرالَّذیْ کُنَّا نَعْمَلْ۔

ترجمہ: توکیا اس وقت ہماری بھی سفارش کرنے والے ہیں جو ہماری سفارش کریں۔ یا پھر ہم دنیا میں لوٹا دیے جائیں تو جو کام ہم کرتے تھے اس کو چھوڑ کر ہم دوسرے کام کریں۔ اسی آیت میں اس سے پہلے والاٹکڑا یوں ہے آب و طعام جنت ان کافروں کے لئے حرام ہے جنھوں نے دین کو کھیل تماشا بنا لیا تھا۔جنکو دنیوی زندگی نے فریب دے رکھا تھا۔ تو آج (آخرت کے دن )ہم انھیں بھی بھلا دیں گے۔ جس طرح انھں نے بھلا دیا تھا۔

 

قارئین غور کریں یہاں تاویل اپنے لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے یعنی انجام کار آیت کے پورے سلسلے پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ اسکا آیات متشابہات کے معنی بیان کرنے سے کوئی تعلق ہی نہیں بلکہ یوم معاد کا انتظار مقصود ہے اسلئے خداوندعالم نے فرمایا کہ جس دن اس کی تاویل یعنی انجام کا سامنا ہوگاجو لوگ انجام کو بھولے بیٹھے ہوں گے وہ سب رسولوں کی حقانیت کو بھی قبول کر لیں گے۔ اور سفارش بھی ڈھونڈیں گے یا واپس دنیا میں لوٹ جانے کی دعا کریں گے تاکہ نیک اعمال بجا لائیں ۔

 

پہلی آیت کے ترجمہ میں آیت متشابہات کا تو کہیں ذکر ہی نہیں ۔ بساٹھایا دے مارا۔

 

اور جب بقول ان کے ان آیات کی تاویل خدا کے علاوہ اور کوئی نہیں کرسکتا تو پھر ان بہائیوں کو کس نے اجازت دے دی ۔

 

دوسری آیت میں بھی یہی طریقہ کار اختیار کیا ہے۔ اس میں دوبارہ پیدائش کا ذکر ہی نہیں ۔ بلکہ خق کی پیروی اور ظن کی مذمت کرتے ہوئے پروردگار عالم نے یہ فرمایا ہے کہ کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو رسول نے جھوٹ موٹ بنا لیا ہے۔ آپ ان سے کہئے کہ اسکی مثل ایک سورہ تمہیں بنا لاوٴ ۔ اور خدا کے علاوہ جسکو تم اپنی مدد کیلئے بلا سکو بلالو اگر تم سچے ہو (جواب کیا لاتے) بلکہ الئے جسکو اپنے علم کے احاطے میں نہ لا سکے اسکو جھٹلا دیا ۔ حالانکہ ان کے پاس اس قرآن کا باطنی مطلب نہیں آیا ۔

 

قارئین ملاحظہ فرمایا آپ نے یہ آیت قرآن کی حقانیت کے بارے میں بات کر رہی ہے اور منکرین قیامت کی مذمت میں ہے ۔نہ اس میں قیامت کا ذکر نہ دوبارہ پیدا کرنے کا ذکر نہ صاحبان قرآن کا نا سمجھنے کا ذکر اور نہ ہی کوئی حدیث اس پر دلالت کرتی ہے۔

 

اس کے علاوہ یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ آج کا مسلمان وہ عقیدہ قیامت کے بارے میں نہیں رکھتا جو دور قدیم کا مسلمان رکھتا تھا ۔ اسکے ثبوت میں ہم امیرالموٴمنین کا نہج البلاغہ کا خطبہ پیش کرتے ہیں۔

خطبہ عربی

 

ترجمہ: یعنی خدا کائنات کو بعد وجود فنا کرنے والا ہے ۔ اس طور سے کہ بقیہ موجود اشیاء بھی مفقود کی طرح ہو جا ئے گی اور ایجاد کے بعد دنیا کا فنا ہونا اس کی ابتدائی پیدائش سے زیادہ تعجب خیز تھوڑی ہی ہے․․․․․․․․․․․ پھر وہ دنیا کو فنا ہونے کے بعد دوبارہ پلٹائے گا حالانکہ خود اسکو دوبارہ پلٹانے کی حاجت نہ ہوگی۔

 

یہی نہیں مسلمان عقیدہ قیامت کے بارے میں کم ازکم قرآن کے چار واقعات تو یاد ہی رکھتے ہیں ۔

جناب ابراہیم کا واقعہ ۔ سورہ بقرہ آیت ۲۶۰وَاِذْ قَالَ اِبْرٰھمُ رَبِّ اَرِنِیْ کَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰے قَالَ اَوَلَمْ تُوٴمِنْ قَالَ بَلی وَلٰکِنْ لِّیَطْمَئِنَّ قَلْبِیْ۔

اور جب جناب ابراہیم نے کہا :

ترجمہ: پروردگار تو مجھے دیکھا کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا۔پروردگار عالم نے پوچھا کیا تم ایمان نہیں رکھتے جناب ابراہیم نے کہا رکھتا ہوں لیکن اطمینان قلب کے لئے ۔

قارئین جانتے ہیں کہ پھر اللہ نے وحی کی کہ چار پرندوں کو ذبح کرو۔انکے گوشت خلط ملت کرو چار پہاڑوں پر رکھو اور پھرآواز دو سارے کے سارے یکجا ہوگئے۔

 

دوسرا واقعہ جناب عزیز پیغمبر کا ہے جو سورہ بقرہ کی آیت۲۵۹: میں بیان کیا گیا ہے کہ سو سال مردہ رہنے کے بعد جب زندہ کیا تو نہ کھانا خراب ہوا تھا نہ پینے کی اشیاء اور نہ ہی گدھا ۔ جسکے ذریعے اللہ نے حجت قرار دی کہ ہم قیامت میں ایسے ہی زندہ کریں گے۔

 

سورہ آیت : اَلَمْ تَرَ اِلیٰ الذینَ خرجوامِنْ دِیٰارِ ھِمْ و ھِم الوف حذرالموفقال لھم اللّٰہُ مُوْتُوْآثم احیاھم ترجمہ اے پیغمبر کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو موت سے بچنے کے لئے اپنے گھروں سے نکل گئے تھے اور وہ ہزاروں کی تعداد میں تھے اللہ نے ان سے فرمایا مرجاوٴ پھر اللہ نے انھیں دوبارہ زندہ کیا۔

 

قرآن میں متعدد جگہوں پر جناب موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ منتخب افراد کا منتخب جگہ (میقات) پر جانا اور اللہ تبارک و تعالیٰ کو دیکھنے کا مطالبہ کرنا اور ہلاک ہوجانا پھر جناب موسیٰ علیہ السلام کی درخواست پر زندہ کرنا وغیرہ۔ لہٰذا ہم اُسی عقیدے پر ایمان رکھتے ہیں جو اسلام قدیم کا ایمان تھا۔

 

نتیجہ:

بہائی حضرات عقیدہ قیامت کے بارے میں آیات قرآنی کو بغیر سیاق و سباق کے توڑ مروڑ کر پیش کرنے کے عادی ہیں ان کی ان تاویلوں سے بچنا چاہےئے اور گھبرا کر اسے سچ نہیں سمجھنا چاہےئے بلکہ اپنے ترجمہ والے قرآن اور تفاسیر سے بات اپنے لئے صاف کرلینا چاہےئے ۔

 

قرآن میں موجود واقعات سے بھی یہ بات ثابت ہے کہ اس دنیا کے بعد دوسری دنیا میں اللہ ہمیں ویسے ہی اٹھائے گا جیسے اسنے ہمیں بغیر کسی چیز کے پیدا کیا تھا یہ واقعات قرآن میں اسی لئے موجود ہیں کہ واقعات سے بات صاف ہوجاتی ہے اور کسی قسم کا شک و شبہ باقی نہیں رہتا۔

 

جو شخص عقیدہ معاد پر ایمان نہیں رکھتا وہ جہنم کی آگ کا حقدار ہوگا۔

 

        عقیدہ معاد

        سوال : جدید کے مسلمان کا قیامت کے بارے میں عقیدہ

        سوال: بعثت انبیاء قیامت ہے؟

        سوال: حضرت امیر الموٴمنین کی حدیث

        سوال: ظہور قائم آل محمد ہی قیامت ہے؟

        سوال: عظیم نبی کا آنا قیامت کبریٰ ہیں؟

        سوال: قیامت کے بارے میں سورہ حج کی آیت

        سوال: ظہور قائم آل محمد کو قیامت ہیں؟

        سوال: قیامت کی حقیقت کا متشابہ الفاظ میں بیان ہونا

        سوال: قیامت کے بارے میں سورہ : رحمٰن کی آیت



blog comments powered by Disqus
HOME | BACK
©TheBahaiTimes.com